اسلام آباد، 30 مارچ (اے پی پی): سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسدادِ منشیات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینر سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں کمیٹی کے رکن سینیٹر محمد طلحہ محمود اور عمر فاروق نے شرکت کی۔
ذیلی کمیٹی نے صوابی اور مردان میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے گوداموں سے 2,828 سگریٹ کے کارٹن چوری ہونے کے معاملے پر غور کیا۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے پاکستان کسٹمز کی کارکردگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سابقہ فاٹا کے ٹیکس فری زونز میں فروخت پر مؤثر نگرانی کا فقدان ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض کاروباری اداروں نے ان علاقوں میں کارخانے قائم کیے مگر مقامی غریب آبادی کو فائدہ پہنچانے کی بجائے مصنوعات ملک بھر میں فروخت کی جا رہی ہیں۔
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ گودام کے سیکیورٹی گارڈ سے تفتیش کی گئی تاہم اس نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ چابیاں کبھی اس کے پاس نہیں تھیں۔ ایف آئی اے نے یہ بھی انکشاف کیا کہ گودام انچارج کو محکمانہ طور پر باقاعدہ تعینات نہیں کیا گیا تھا جسے سنگین غفلت قرار دیا گیا۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے حکام کو ہدایت کی کہ پیراماؤنٹ ٹوبیکو کمپنی کی جانب سے مشینری کی درآمد سے متعلق دستاویزات فراہم کی جائیں۔ ایف بی آر آر ٹی او پشاور نے کمیٹی کو بتایا کہ کمپنی نے 2018 کے گوشواروں میں اپنی مشینری کی مالیت 35 لاکھ روپے ظاہر کی تھی جبکہ ایسی کمپنیاں عموماً استعمال شدہ مشینری خرید کر اسے قابلِ استعمال بناتی ہیں۔
ذیلی کمیٹی نے ایف آئی اے کی جانب سے فراہم کردہ نامکمل معلومات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا جس پر ادارے نے آئندہ اجلاس میں مکمل تفصیلات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ چیئرمین ذیلی کمیٹی نے پیراماؤنٹ ٹوبیکو کمپنی کی جانب سے بیانات جمع کرانے میں تاخیر پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ کمپنی کے مالک کو طلب کیا گیا تھا تاہم اس نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی جس میں ہراسانی کا الزام لگایا گیا۔ سینیٹر ابڑو نے ہدایت کی کہ طلبی کے باوجود پیش نہ ہونے والے افراد کو سات دن بعد قانون کے مطابق گرفتار کیا جائے۔
ایف بی آر کے ایک رکن نے کہا کہ چوری شدہ سگریٹ کے کارٹن کے اصل فائدہ اٹھانے والوں کی نشاندہی سے کیس حل کرنے میں مدد ملے گی۔
پاکستان کسٹمز نے ملک میں اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے اقدامات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ اسمگلنگ کے زیادہ تر واقعات بلوچستان میں پیش آتے ہیں۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں 2012 سے اب تک ضبط شدہ سامان کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں اور اس عرصے کے دوران اسمگلنگ میں ملوث فائدہ اٹھانے والوں کی معلومات بھی پیش کی جائیں۔
چیئرمین ذیلی کمیٹی نے ملاکنڈ اور سابق فاٹا جیسے ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں میں اشیا کی مہنگے داموں فروخت پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مراعات مقامی اور پسماندہ آبادی کی مدد کے لیے دی گئی تھیں مگر صنعتی یونٹس ان سہولتوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے مصنوعات ملک بھر میں فروخت کر رہے ہیں۔











