بڑھتی آبادی کے پیش نظر وفاقی وزیر صحت کی زیر صدارت اہم اجلاس، سنگین قومی چیلنج قرار

11

اسلام آباد، یکم اپریل (اے پی پی): وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مشیر وزیر خزانہ عدنان پاشا صدیقی نے شرکت کی جبکہ سیکرٹری صحت، ڈی جی پاپولیشن، ڈی جی ہیلتھ اور دیگر سینئر افسران بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں بڑھتی آبادی کے باعث صحت کے نظام اور قومی وسائل پر اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 62 لاکھ افراد کا اضافہ ہو رہا ہے اور سالانہ آبادی میں یہ اضافہ نیوزی لینڈ کی کل آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی آبادی ایک سنگین قومی چیلنج بن چکی ہے اور صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور روزگار کے شعبے شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت دنیا کا پانچواں بڑا آبادی والا ملک ہے اور آئندہ پانچ سال بعد آبادی کے لحاظ سے انڈونیشیا کو پیچھے چھوڑ دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آبادی میں تیزی سے اضافہ ملک کے انفراسٹرکچر کو تباہ کر رہا ہے اور اس نے قومی منصوبہ بندی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

مصطفیٰ کمال نے خبردار کیا کہ اگر آبادی میں اضافے پر قابو نہ پایا گیا تو ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا اور شرح پیدائش کو 3.6 سے کم کر کے 2.0 تک لانا ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور ایران نے مؤثر حکمت عملی کے ذریعے آبادی میں توازن پیدا کیا ہے اور اپنے شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزارت صحت اور تمام سٹیک ہولڈرز اس سلسلے میں مربوط اقدامات کو یقینی بنا رہے ہیں جبکہ بحیثیت قوم ہمیں آبادی کے مسائل کو سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ بڑھتی ہوئی آبادی صحت کے نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

مشیر وزیر خزانہ عدنان پاشا صدیقی نے اس موقع پر کہا کہ آبادی میں اضافے پر قابو پانے کے لیے وزارت خزانہ ہر ممکن مالی اور پالیسی تعاون فراہم کرے گی اور اس قومی چیلنج سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کو یقینی بنایا جائے گا۔