لاہور،02پریل (اے پی پی):گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پاک بھارت جنگ میں ملک کا امیج مضبوط ہوا، عالمی برادری تنازعات کے حل کےلئے پاکستان کو ثالثی کی دعوت دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے صحت کے شعبے میں نمایاں پیش رفت کی ہے، ماضی میں جہاں ہیلتھ سے متعلق اشیا درآمد کی جاتی تھیں اب ملک ان کی برآمدات کی طرف بڑھ رہا ہے جو مثبت اور حوصلہ افزا تبدیلی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو ایکسپو سینٹر میں پاک فارما اینڈ ہیلتھ کیئر ایکسپو کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی سطح پر کیے گئے اقدامات کے باعث پاکستان عالمی سطح پر اپنی شناخت بہتر بنانے میں کامیاب ہوا ، بھارت کے ساتھ جنگ میں کامیابی کے بعد دنیا میں پاکستان کا امیج مزید مضبوط ہوا اور اب عالمی برادری اہم تنازعات کے حل کے لیے پاکستان کو ثالثی کا کردار ادا کرنے کی دعوت دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان اسی طرح عالمی امن کے قیام میں کردار ادا کرتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب اسلام آباد عالمی سطح پر امن کے حوالے سے بڑی کامیابیوں کا مرکز بنے گا اور نوبل انعام جیسے اعزازات بھی ملک کے حصے میں آ سکتے ہیں۔گورنر نے کہا کہ ملک کی اعلیٰ قیادت بشمول فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم محمد شہباز شریف دن رات قومی ترقی اور استحکام کے لیے کوشاں ہیں جبکہ بلاول بھٹو زرداری بھی اس وقت فعال اور متحرک سیاسی کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان موثر رابطہ ہی ملکی استحکام کی ضمانت ہے اور وہ خود اس حوالے سے مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔صوبۃ خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنوبی اضلاع میں امن و امان کے حالات تسلی بخش نہیں اور اس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی جانب سے یہ اعتراض سامنے آیا تھا کہ انہیں سکیورٹی آپریشنز کے حوالے سے اعتماد میں نہیں لیا جاتا،تاہم اب اپیکس کمیٹی کا اجلاس بلانے کا فیصلہ مثبت پیش رفت ہے۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ گزشتہ تیرہ برسوں میں صوبے میں ترقیاتی کاموں کی رفتار سست رہی،نہ خاطر خواہ سٹیڈیم بن سکے اور نہ ہی ہسپتالوں کی تعمیر پر توجہ دی گئی۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی رہی جس کے باعث سکیورٹی فورسز کو آپریشنز کرنا پڑے تاہم دوست ممالک کی درخواست پر عید کے موقع پر آپریشنز کو عارضی طور پر روک دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ جو بھی آئینی ترمیم آئے گی وہ اٹھائیسویں ترمیم ہوگی ۔ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کو جب اقتدار ملا تو ملک انتہائی نازک صورتحال سے دوچار تھاجسے بہتر بنانے کےلئے پارٹی نے بھرپور اقدامات کئے، آ ئندہ انتخابات میں ان کی خواہش ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کامیابی حاصل کریں۔انہوں نے کہا کہ فورسز سے متعلق معاملات پر پی ٹی آئی کے اندر بھی اختلافات پائے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر جہانگیر ترین پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرتے ہیں تو انہیں خوش آمدید کہا جائے گا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر دہشت گردی کے بیانیے کو تقویت دینے والے عناصر تحریک طالبان پاکستان کے حملوں پر خاموش کیوں ہیں جبکہ قوم کو اس حوالے سے واضح اور دوٹوک موقف کی ضرورت ہے۔فیصل کریم کنڈی نے پاک فارما اینڈ ہیلتھ کیئر ایکسپو کی افتتاحی تقریب اور نمائش میں لگائے گئے مختلف اسٹالز کا دورہ بھی کیا۔











