پاکستان اور ترکیہ کی عدلیہ کے درمیان ادارہ جاتی روابط کو مضبوط بنانا نظامِ انصاف میں بہتری اور شفافیت کے لئے نہایت اہم ہے ، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

10

اسلام آباد۔6اپریل  (اے پی پی):چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکیہ کی عدلیہ کے درمیان ادارہ جاتی روابط کو مضبوط بنانا نظامِ انصاف میں بہتری، شفافیت اور عوام کی رسائی کو یقینی بنانے کے لئے نہایت اہم ہے۔یہ بات انہوں نے پیر کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں ترکیہ کی آئینی عدالت کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کی میزبانی کے موقع پر کہی ۔وفد  کی قیادت ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر قادر اوزکایا کر رہے ہیں جو بطور سرکاری مہمان پاکستان کے دورے پر ہیں۔دورے کی اہم اور کلیدی بات دونوں ممالک کی اعلیٰ عدلیہ کے درمیان عدالتی تعاون کے فروغ کے لئے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط تھے۔ اس معاہدے پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور صدر قادر اوزکایا نے سپریم کورٹ میں منعقدہ تقریب کے دوران دستخط کئے۔تقریب میں وفاقی آئینی عدالت کے ججز، چاروں ہائی کورٹس سمیت آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے چیف جسٹس صاحبان، وفاقی وزیر قانون و انصاف، اٹارنی جنرل پاکستان، اعلیٰ سرکاری حکام، ضلعی عدلیہ کے افسران اور وکلاء برادری کے نمائندگان نے شرکت کی۔چیف جسٹس نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے روابط عدالتی کارکردگی میں بہتری اور ادارہ جاتی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اس موقع پر صدر قادر اوزکایا نے مہمان نوازی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان مسلسل عدالتی مکالمے اور تجربات کے تبادلے کی اہمیت پر زور دیا۔مفاہمتی یادداشت میں عدالتی تعاون کے لئے ایک جامع فریم ورک فراہم کیا گیا ہے جس کے تحت ججز کے تبادلے، استعداد کار میں اضافہ، پیشہ وارانہ تربیت اور عدالتی طریقہ کار و انتظامی امور میں بہترین طریقوں کو اپنانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ خاص طور پر ضلعی عدلیہ کی پیشہ وارانہ تربیت کے لیے مشترکہ پروگرامز، تعلیمی تبادلے اور مختلف قانونی نظاموں کے تجربات سے استفادہ پر زور دیا گیا ہے۔معاہدے میں عدالتی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، ڈیجیٹلائزیشن اور ای کورٹس کے قیام کے ذریعے شفافیت اور کارکردگی بڑھانے کی شقیں بھی شامل ہیں۔ مزید برآں مشترکہ تحقیق، قانونی علم اور عدالتی نظائر کے تبادلے اور مؤثر عملدرآمد کے لئے مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔تقریب کے اختتام پر پاک-ترک دوستی کی علامت کے طور پر وفد نے سپریم کورٹ کے احاطے میں پودا بھی لگایا جو دونوں ممالک کے مضبوط برادرانہ تعلقات اور پائیداری کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان عدالتی تعاون کو مزید مستحکم کرنے اور قانون کی حکمرانی و ادارہ جاتی اصلاحات کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔