اسلام آباد،13 اپریل(اے پی پی ): افغانستان میڈیا سپورٹ آرگنائزیشن نے افغان طالبان رجیم میں صحافیوں پر بڑھتے تشدد، بلاجواز گرفتاریوں اور ظالمانہ سنسرشپ پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات نے آزاد صحافت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
اے ایم ایس او نے افغان طالبان کی زیرِ حراست صحافیوں شکیب احمد نظری، بشیر حاطف، حمید فرہادی اور دیگر کی حالت زار پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔اے ایم ایس او کے بیان کے مطابق افغان طالبان رجیم میں صحافیوں کی بلاجواز گرفتاریوں اور ناجائز حراست نے خوف، دباؤ اور عدم تحفظ کی فضا کو مزید گہرا کر دیا۔
اے ایم ایس او کے بیان کے مطابق سچ بولنے والے صحافیوں کی آوازیں جبر، دھمکیوں اور سنسرشپ کے زور پر دبائی جارہی ہیں جبکہ طالبان کے ہاتھوں گرفتار صحافی محض عوام تک سچ اور معلومات پہنچانے کی پیشہ ورانہ ذمہ داری انجام دے رہے تھے۔
اے ایم ایس او نے کہا کہ صحافیوں کی غیرقانونی حراست تمام بین الاقوامی معاہدوں اور مہذب اقدار کی خلاف ورزی ہے۔
ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم میڈیا اور صحافیوں پر بلاجواز پابندیاں لگا کر اپنی آمریت اور ناکام پالیسیوں پر پردہ ڈالنا چاہتی ہے۔ ماہرین کے مطابق انسانی حقوق کی سنگین پامالی، میڈیا پر پابندیاں اور دہشتگردوں کی سرپرستی اب افغان طالبان رجیم کی شناخت بن چکی ہیں ۔











