واشنگٹن ڈی سی ، 15 اپریل (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ
آئی ایم ایف کے زیرِ اہتمام “جنگ کے دوران MENAP معیشتیں، جھٹکوں کا نظم و نسق اور مستقبل کی تشکیل” کے عنوان سے منعقدہ پینل مباحثے میں شرکت کی۔
گفتگو کے دوران وزیر خزانہ نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کو حالیہ تاریخ کے بڑے ترین سپلائی شاکس میں سے ایک قرار دیا، جس کا پیمانہ COVID-19 کے دوران سامنے آنے والے ڈیمانڈ شاک کے مماثل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران نے توانائی کے تحفظ اور سپلائی چین کی مضبوطی سے متعلق عالمی سطح پر ایک وسیع مکالمے کو جنم دیا ہے۔
انہوں نے بحران کے فوری اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے ایندھن کی دستیابی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا ذکر کیا، جبکہ پاکستان کی جانب سے ممکنہ دوسرے اور تیسرے درجے کے اثرات کے حوالے سے جاری منظرنامہ بندی سے بھی آگاہ کیا، جن میں مہنگائی، ترسیلات زر، برآمدات اور سرمایہ کے بہاؤ پر اثرات شامل ہیں۔
ابھرتے ہوئے مثبت پہلو کی نشاندہی کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ گزشتہ 25 تا 30 دنوں کے دوران کراچی پورٹ پر ٹرانس شپمنٹ کی مقدار گزشتہ پورے سال کے مقابلے میں زیادہ رہی، جو عالمی تجارتی منظرنامے میں نئے مواقع کی عکاسی کرتی ہے۔
وزیر خزانہ نے اس امر پر زور دیا کہ اس بحران سے حاصل ہونے والا ایک اہم سبق اسٹریٹجک ذخائر کی تعمیر ہے، جبکہ انہوں نے مزید دو اہم نکات پر روشنی ڈالی، جن میں ہدفی ترسیلی نظام کے ذریعے مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کی اہمیت اور اقتصادی مضبوطی کے فروغ میں ٹیکنالوجی کے انقلابی کردار کو اجاگر کیا گیا۔











