واشنگٹن ڈی سی، 15 اپریل (اے پی پی ): وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب نے اٹلانٹک کونسل میں ”پاکستان کا اصلاحات اور معاشی مضبوطی کی جانب سفر “ کے موضوع پر خطاب کیا۔
اپنے خطاب کے دوران وزیر خزانہ نے عالمی امور میں پاکستان کے ایک تعمیری کردار کے طور پر ابھرنے کو اجاگر کیا، جس میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں سہولت کاری کا کردار بھی شامل ہے۔
اقتصادی حوالے سے انہوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے جاری پروگرام کی بدولت نمایاں میکرو اکنامک استحکام حاصل کیا ہے، جس کی بنیاد مضبوط مالیاتی اور بیرونی کھاتوں کی کارکردگی پر ہے۔ انہوں نے ایک ذمہ دار خودمختار قرض گیر ملک کے طور پر اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ سعودی وزیر خزانہ کے ساتھ ان کی حالیہ ملاقات کے مثبت نتائج برآمد ہوئے، جن میں قرضوں کی ادائیگی کی مدت میں توسیع اور اضافی مالی معاونت شامل ہے، تاکہ ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
حکومت کے ساختی اصلاحاتی ایجنڈے کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے اہم اقدامات کا ذکر کیا، جن میں سرکاری ملکیتی اداروں کی نجکاری، وفاقی وزارتوں کا حجم کم کرنا، اور پبلک فنانس مینجمنٹ نظام کو مزید مضبوط بنانا شامل ہے۔
انہوں نے پاکستان میں جاری ڈیجیٹل تبدیلی پر بھی روشنی ڈالی، جس کا مقصد مالی ضیاع میں کمی، خدمات کی فراہمی میں بہتری، اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے ذریعے ہدفی سبسڈی پروگرامز کو مؤثر بنانا ہے۔
وزیر خزانہ نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان اقتصادی تعلقات میں امداد پر مبنی ماڈل سے تجارت پر مبنی شراکت داری کی جانب پیش رفت کا عندیہ دیا، اور اہم معدنیات اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے شعبوں میں امریکی انتظامیہ کے ساتھ بامعنی روابط کا ذکر کیا۔
اختتامی کلمات میں انہوں نے پاکستان کے توانائی منتقلی کے ایجنڈے پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ملک میں اس وقت تقریباً 8,000 میگاواٹ شمسی توانائی کی تنصیب موجود ہے، جبکہ قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے لیے ایک جامع حکمت عملی پر عمل جاری ہے۔
تقریب کا اختتام سوال و جواب کے سیشن کے ساتھ ہوا۔











