واشنگٹن ڈی سی، 14 اپریل (اے پی پی): وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاس 2026 کے موقع پر جیفریز انٹرنیشنل کے زیر اہتمام ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے ایک راؤنڈ ٹیبل اجلاس میں شرکت کی۔
وزیر خزانہ نے شرکاء کو پاکستان کی معاشی صورتحال اور اصلاحاتی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (EFF) کے تیسرے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (RSF) کے دوسرے جائزے پر اسٹاف لیول معاہدہ حاصل کر لیا ہے، جس میں تمام مقداری اور ساختی اہداف حاصل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری متوقع ہے، جس کے بعد اگلی قسط جاری ہو جائے گی۔
وزیر خزانہ نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے پاکستان کی معیشت پر اثرات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ ابتدائی اثرات واضح ہیں، جبکہ دوسرے اور تیسرے درجے کے اثرات کا انحصار تنازع کے دورانیے اور شدت پر ہوگا۔
انہوں نے حکومتی اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ مالیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے ہدفی سبسڈیز، ترقیاتی اخراجات میں کمی اور وفاقی سطح پر کفایت شعاری کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
بیرونی مالیاتی وسائل کے حوالے سے وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان اپنا گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ (GMTN) پروگرام دوبارہ فعال کر رہا ہے اور یورو بانڈ، سکوک اور ڈالر میں طے شدہ روپے سے منسلک بانڈز کے لیے لیڈ مینیجرز کی تقرری کے عمل کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کا پہلا پانڈا بانڈ بھی زیر غور ہے، جس کے لیے ریگولیٹری منظوری کا انتظار ہے۔
اجلاس کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا، جس میں سرمایہ کاروں نے پاکستان کی معاشی پالیسیوں اور اصلاحاتی ایجنڈے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔











