اسلام آباد، 17 اپریل ( اے پی پی): فیصل مسجد میں جمعہ کے خطبے کے بعد ایک خصوصی دعا کا اہتمام کیا گیا جس میں پاکستان کے لیے پائیدار امن، استحکام اور خوشحالی کی دعا کی گئی۔
اس موقع پر چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) اور چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قومی سلامتی اور علاقائی و عالمی سطح پر امن کے فروغ کے لیے خدمات کو سراہا گیا اور ان کی مزید کامیابی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
دعا کی امامت قائم مقام ریکٹر و صدر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد نے کی۔
اس موقع پر سینئر حکام، معزز مہمانوں اور اسلام آباد و راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے بڑی تعداد میں نمازیوں نے شرکت کی، جو اتحاد، ایمان اور اجتماعی دعا کے جذبے کی عکاسی کر رہے تھے۔
پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد نے اپنے خطاب میں امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالی اور مسلم ممالک کے درمیان اتحاد، یکجہتی اور تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں باہمی ہم آہنگی اور اجتماعی عزم کو مضبوط بنانا مسلم دنیا کے استحکام اور ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
خطبے کے اختتام پر امت مسلمہ کے اتحاد، قیادت کی رہنمائی اور دنیا بھر میں امن و سلامتی کے قیام کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کے علاقائی و عالمی امن کے فروغ میں کردار کی کامیابی کے لیے بھی دعا کی گئی۔
اپنے خطبے میں پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام ایک عظیم نعمت ہے جو دلوں کو جوڑتا اور بھائی چارے کو فروغ دیتا ہے، جبکہ تفرقہ اور انتشار کمزوری اور زوال کا سبب بنتے ہیں۔ انہوں نے قرآنی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو اللّہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے اور اختلاف سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے، کیونکہ اتحاد ہی طاقت اور استحکام کا ذریعہ ہے۔
انہوں نے صبر، استقامت اور ثابت قدمی کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ حقیقی قوت اخلاقی مضبوطی اور مادی صلاحیت دونوں کا مجموعہ ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ قرآن و سنت کی پیروی موجودہ عالمی چیلنجز کے تناظر میں نظم و ضبط، استحکام اور ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
جمعہ کی نماز کے بعد معزز سعودی مہمانوں نے صدر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد، پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد سے ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور تعاون کے فروغ کے امکانات پر خوشگوار ماحول میں تبادلہ خیال کیا گیا۔











