اسلام آباد، 29 اپریل (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے اور براڈبینڈ رسائی کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
یورپی یونین–پاکستان بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت فائبر نیٹ ورک کی توسیع پر توجہ دے رہی ہے تاکہ ملک بھر میں کنیکٹیویٹی کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے اور ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ فائبرائزیشن کو فروغ دینے کے لیے پالیسی اقدامات کیے گئے ہیں جن کا مقصد نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو آسان بنانا اور انفراسٹرکچر کی ترقی کو تیز کرنا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کی “ڈیجیٹل پاکستان” وژن کے تحت ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اور اس سلسلے میں مختلف شعبوں میں بہتری لانے پر کام جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کی کنیکٹیویٹی کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن سے انٹرنیٹ کی رفتار اور استحکام میں بہتری آئے گی۔
شزا فاطمہ نے کہا کہ پاکستان علاقائی سطح پر ڈیٹا ٹرانزٹ حب کے طور پر ابھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس مقصد کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے ریگولیٹری نظام کو بھی جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے تاکہ کاروباری برادری کو سہولت فراہم کی جا سکے اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھائے جا سکیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں نوجوان آبادی اور بڑھتا ہوا ڈیجیٹل استعمال ملک کو آئی ٹی اور آؤٹ سورسنگ کے شعبوں میں پرکشش بناتا ہے، جبکہ حکومت سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ مالی شفافیت اور سہولت میں اضافہ ہو اور معیشت کو مزید دستاویزی بنایا جا سکے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور یورپ کے درمیان ڈیجیٹل شعبے میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں اور اس فورم کے ذریعے دونوں خطوں کے درمیان روابط مزید مضبوط ہوں گے۔











