ایف بی آر میں ڈیجیٹائزیشن اور اصلاحات کے مثبت نتائج آ رہے ہیں، وزیراعظم

7

اسلام آباد، 5 0مئی (اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایف بی آر میں جاری اصلاحات کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ الحمدللہ ایف بی آر میں ڈیجیٹائزیشن اور جاری اصلاحات کے بہتر نتائج آ رہے ہیں۔

وزیراعظم نے ٹاسک فورس کے سربراہ شاد محمد خان اور دیگر ممبران کا محنت اور جانفشانی سے رپورٹ مرتب کرنے پر اظہار تحسین کیا اور ٹاسک فورس کی طرف سے پیش کردہ ایکشن پلان کی منظوری دے دی۔ انہوں نے ایکشن پلان کو ٹائم لائنز کے ساتھ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم نے ٹیکس تنازعات کے جلد حل کے لیے اے ڈی آر کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس نظام سے عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم ہو گا اور ٹیکس مقدمات کا فیصلہ جلد ہو گا۔ انہوں نے کمیٹی کی رپورٹ میں مجوزہ سی ایل ایم ایس کو جلد از جلد قائم کرنے کا بھی کہا۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ایف بی آر کے قانونی ونگ میں ضرورت کے مطابق بہترین افرادی قوت کی خدمات لی جائیں اور افرادی قوت کی خدمات کے حصول میں میرٹ کو یقینی بنایا جائے۔

اجلاس میں ٹاسک فورس نے 6 اصلاحات پر مبنی ایکشن پلان پیش کیا جس میں کیس سکروٹنی کمیٹیوں کی تشکیل، سی ایل ایم ایس، کمشنرز سمیت تمام افسران کی کارکردگی کی رپورٹس کا مقدمات کے نتائج سے منسلک کیا جانا اور دیگر اصلاحات شامل ہیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ٹیکس کے تنازعات کے ڈیٹا کو منظم کرنے کے لیے خصوصی طور پر تیار کردہ سی ایل ایم ایس کا ڈیجیٹل نظام بنایا جائے گا جس سے ٹیکس مقدمات اور تنازعات کی درست رپورٹنگ ممکن ہو گی اور ان مقدمات کی بروقت پیروی ہو سکے گی۔ اس سال اے ڈی آر کے فورم سے اب تک ٹیکس تنازعات کے فیصلوں سے قومی خزانے میں 24 ارب روپے وصول ہو چکے ہیں۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، شاد محمد خان سمیت ٹاسک فورس کے ارکان اور اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔