’’معرکہ حق ‘‘میں فتح کے بعد دنیا پاکستان کو ایک سنجیدہ و مضبوط ملک کے طور پر دیکھ رہی ہے، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کا معرکہ حق سیمینار سے خطاب

7

اسلام آباد،07 مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے معرکہ حق کی فتح کا ایک سال مکمل ہونے پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’معرکہ حق ‘‘میں فتح کے بعد آج دنیا پاکستان کو ایک سنجیدہ و مضبوط ملک کے طور پر دیکھ رہی ہے، ’’معرکہ حق ‘‘قومی عزم، جذبے اور وژن کی علامت ہے، بیانیے کی جنگ میں حقائق اور سچ اہمیت رکھتے ہیں، بھارتی حکومت نے سچائی کے خوف سے پاکستانی یوٹیوب چینلز پر پابندیاں عائد کیں، ہم نے انڈین چینلز پر پابندی کی بجائے اپنی ڈیجیٹل حکمت عملی تبدیل کی، ہماری ٹیم نے بھارتی لوکیشنز کو جیو ٹیگ کر کے وہاں کے صارفین تک پاکستانی ملی نغمے، ترانے اور جے ایف 17 تھنڈرز کی ویڈیوز پہنچائیں جس کے نتیجے میں بھارتی عوام خود اپنی حکومت سے سوال کرنے پر مجبور ہو گئے۔ ’’معرکہ حق ‘‘میں جامع حکمت عملی اور مکمل ہم آہنگی کے ساتھ ہر سطح پر دشمن کو بھرپور جواب دیا گیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں سینٹر آف پاکستان اینڈ انٹرنیشنل ریلیشنز کے زیر اہتمام ”معرکہ حق سیمینار“ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پہلگام واقعہ کے بعد پاکستانی اور بین الاقوامی صحافیوں کے ایک وفد کو بیلا نور شاہ کے اس علاقے کا دورہ کرایا گیا جس کے بارے میں بھارت نے دعویٰ کیا تھا کہ وہاں دہشت گردوں کے کیمپ موجود ہیں، ہم صحافیوں کے وفد کو عین اسی مقام پر لے گئے تاکہ دنیا کو دکھایا جا سکے کہ وہاں معمولات زندگی مکمل طور پر معمول کے مطابق ہیں، اس دورے کے ذریعے بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کا یہ دورہ اس قدر موثر اور کامیاب رہا کہ اس کے بعد ہم نے اگلے روز مریدکے اور بہاولپور کے دورے کا منصوبہ بنایا جہاں بھارت نے دہشت گرد سرگرمیوں کے الزامات عائد کئے تھے تاہم ہمارے دورے سے قبل ہی بھارت نے بزدلانہ حملہ کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت کی جارحیت کی بنیاد ہی پروپیگنڈے اور من گھڑت کہانیوں پر قائم تھی۔ انہوں نے کہا کہ سٹریٹیجک بیانیہ کے محاذ پر درست معلومات، درست وقت پر اور درست سامعین تک پہنچانا انتہائی اہم ہوتا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بھارت نے ماضی میں بھی متعدد فالس فلیگ آپریشنز کئے ہیں، یہ اس کی تاریخ رہی ہے، تاریخ گواہ ہے کہ ایسے فالس فلیگ آپریشنز کو پاکستان کے خلاف جارحیت اور حملوں کے جواز کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کو آج تقریباً آٹھ دہائیاں گذر چکی ہیں لیکن بھارت آج بھی دو قومی نظریے کی حقیقت کو دل سے تسلیم نہیں کر سکا، حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا وجود ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہا ہے جبکہ نظریہ پاکستان اور دو قومی نظریہ بھی وقت کے ساتھ ساتھ مزید مستحکم ہو رہے ہیں جبکہ دوسری جانب ہم نے اپنی مشرقی سرحد کے اس بار ہندوتوا نظریے کے بڑھتے ہوئے اثرات کو بھی واضح طور پر دیکھا ہے، وہاں ہم نے اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کو بھی دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سٹریٹیجک بیانیے کی بات آئی تو ہمارا پہلا اور دوٹوک موقف یہی تھا کہ بھارت ہمیشہ اپنے داخلی مسائل کو بیرونی رنگ دینے اور بیرونی مسائل کو داخلی مسئلہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی بھارت کا داخلی مسئلہ ہے، یہ کوئی بیرونی مسئلہ نہیں، اس کے برعکس جموں و کشمیر کا تنازعہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے کیونکہ بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق وہاں استصواب رائے ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام دہائیوں سے جبر و استبداد کا سامنا کر رہے ہیں، کشمیر ایک بین الاقوامی تنازعہ ہے جبکہ بھارت اپنی اندرونی ناکامیوں اور مسائل کو بیرونی خطرات سے جوڑ کر حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ اپنے جھوٹے بیانیے اور گمراہ کن پروپیگنڈا کا سہارا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ دہشت گردی کو فروغ دیا، سرحدوں سے ماوراء جارحیت اور مختلف ممالک میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگز اور قتل کی کارروائیاں دنیا کے سامنے ہیں، کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجر کا قتل ہو یا امریکہ اوربرطانیہ میں ہونے والی بین الاقوامی سطح کی ٹارگٹ کارروائیاں کسی انفرادی عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مخصوص سوچ اور نطریے کی عکاسی ہیں اور وہ نظریہ دہشت گردی کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بنیادی فرق یہی ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف صف اول کی ریاست رہا ہے جبکہ بھارت دہشت گردی کو فروغ دیتا آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، کوئی دوسرا ملک ایسی مثال پیش نہیں کر سکتا، دنیا میں کوئی اور قوم ایسی نہیں ہے جس کے پاس دہشت گردی کی جنگ میں اتنی عظیم قربانیوں کا ریکارڈ موجود ہو جتنا پاکستان کے پاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری مسلح افواج کے افسران سے لے کر جوانوں تک بے مثال قربانیوں کی داستان موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں، پولیس فورس اور معصوم بچوں نے دہشت گردی کا ڈٹ کر سامنا کیا ہے، آرمی پبلک سکول کے المناک سانحہ کو کوئی نہیں بھلا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صف اول کی ریاست ہے، ہمارے بچوں نے اس جنگ میں قربانیاں دی ہیں اور اس جنگ میں پاکستان نے کئی ارب ڈالر کا نقصان برداشت کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی پاکستانی دہشت گردی کی جنگ میں اپنے وطن کے لئے جان کا نذرانہ پیش کرتا ہے تو وہ صرف پاکستان کے لئے قربانی نہیں دیتا بلکہ پوری دنیا کو محفوظ بنانے کے لئے قربانی دیتا ہے، اگر ان قربانیوں کا سلسلہ نہ ہوتا تو یہ دہشت گرد دنیا بھر میں دندناتے پھر رہے ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف برسرپیکار ہے، یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے جبکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بھارت دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امن پر یقین رکھتا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے جبکہ بھارت ہمیشہ دہشت گردی کو فروغ دیتا آیا ہے، بھارت مسلسل پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کے الزامات عائد کرتا رہا ہے، پہلگام واقعہ کے حوالے سے بھارت نے جس انداز میں بیانیہ گھڑا وہ نہ صرف غیر منطقی بلکہ مضحکہ خیز بھی تھا۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعہ کی ایف آئی آر واقعہ کے صرف دس منٹ بعد درج کی گئی جبکہ خود اس سیاحتی مقام پر مناسب سکیورٹی موجود نہیں تھی، یہ تمام عوامل اس بیانیہ کی کمزوریوں اور اس کے غیر سنجیدہ پن کو واضح کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام کا علاقہ لائن آف کنٹرول سے سو کلو میٹر سے زائد فاصلے پر ہے، ایسے میں اگر در اندازی ہوئی بھی تھی تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت کا دفاعی نظام کہاں تھا؟ یہ نام نہاد دہشت گرد سینکڑوں کلو میٹر اندر تک کیسے داخل ہوئے؟ یہ تمام پہلو بھارت کے موقف پر کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کرتے ہیں۔