سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی ذیلی کمیٹی  کااجلاس،سٹیٹ بینک کو فیٹف  کے ضوابط، بینکوں کو جاری کی گئی ہدایات

10

اسلام آباد، 07مئی (اے پی پی): سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی ذیلی کمیٹی   کا اجلاس جمعرات کویہاں پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جس  میں سینیٹر محمد عبدالقادر نے شرکت کی جبکہ سینیٹر انوشہ رحمان  نے زوم کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ذیلی کمیٹی کو سیاسی طور پر نمایاں شخصیات (پولیٹکلی ایکسپوذڈپرسنز) سے متعلق ضوابط پر بریفنگ دی گئی جس میں خاندان کے افراد اور قریبی ساتھیوں کی تعریف بھی شامل تھی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ خاندان کے افراد سے مراد وہ لوگ ہیں جو کسی پولیٹکلی ایکسپوذڈپرسنز  سے براہ راست   شادی یا اسی نوعیت کی شراکت داری کے ذریعے منسلک ہوں۔ کنوینر نے مشاہدہ کیا کہ اس نوعیت کی تعریفیں زیادہ تر مغربی تصورات پر مبنی ہیں جبکہ مسلم معاشروں میں خاندانی تعلقات عموماً خونی رشتوں کی بنیاد پر متعین کیے جاتے ہیں۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سٹیٹ بینک کے ضوابط کے مطابق پولیٹکلی ایکسپوذڈپرسنز   کے رشتوں میں شریک حیات، اولاد، والدین اور بہن بھائی شامل ہوتے ہیں۔سینیٹر محمد عبدالقادر نے زور دیا کہ بینکوں کو اپنے صارفین کو سہولت فراہم کرنی چاہیے اور پولیٹکلی ایکسپوذڈپرسنز کو روزمرہ مالیاتی معاملات میں غیر ضروری مشکلات سے دوچار نہیں کرنا چاہیے۔ سٹیٹ بینک  کے ڈپٹی گورنر نے کمیٹی کوپولیٹکلی ایکسپوذڈپرسنز  کے خاندان کے افراد اور قریبی ساتھیوں سے متعلق فنانشل ایکشن ٹاسک فورس  کے معیارات پر مزید بریفنگ دی اور بتایا  کہ فیٹف  کی شرائط کے مطابق بینک اس بات کے مجاز ہیں کہ وہ دولت کے ذرائع اور فنڈز کے ماخذ کے بارے میں معقول اقدامات کریں اور کاروباری تعلقات کی مسلسل اور موثر نگرانی کو یقینی بنائیں۔ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک نے تجویز دی کہ پولیٹکلی ایکسپوذڈپرسنز  کو سہولت اور رہنمائی کے لیے بینکوں میں مقرر کردہ فوکل پرسنز سے رابطہ کرنا چاہیے۔ دوران اجلاس کنوینر نے ذاتی بینک اکاؤنٹس خاص طور پر ایسے معاملات میں جہاں اکاؤنٹ ہولڈر کسی کاروبار سے وابستہ نہ ہو اور نہ ہی اس کے کسی رشتہ دار کے ساتھ کاروباری سرگرمی ہو کے حوالے سے تشویش ظاہر کی ۔ کنوینر نے سوال اٹھایا کہ پولیٹکلی ایکسپوذڈپرسنز کے خودمختار اور بالغ بچوں سے دولت کے گوشوارے یا مالی تفصیلات طلب کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ انہوں نے بینکاری نظام میں رازداری کے فقدان پر بھی تشویش ظاہر کی اوربتایا کہ اس قسم کے تقاضے  پولیٹکلی ایکسپوذڈپرسنز   کے لیے غیر ضروری مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ ڈپٹی گورنر نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ   ٹرانزیکشن مانیٹرنگ تمام صارفین کے لیے ایک معمول کی کارروائی ہے  اور بینک عموماً صرف ان لین دین کی وضاحت طلب کرتے ہیں جو مضبوط نگرانی کے نظام کے تحت مشتبہ قرار پاتے ہیں۔ کنوینر نے سفارش کی کہ بینک بلا امتیاز دولت کے گوشوارے طلب کرنے کے بجائے صرف مشتبہ لین دین پر توجہ دیں۔ سینیٹر  انوشہ رحمان نے تجویز دی کہ مشتبہ لین دین  کی اصطلاح کے بجائے کوئی زیادہ مناسب اور کم منفی تاثر رکھنے والی اصطلاح استعمال کی جائے۔  ڈپٹی گورنر نے کمیٹی کو بتایا کہ سٹیٹ بینک نے اب تک کرپٹو کرنسی سے متعلق کوئی باضابطہ ضوابط جاری نہیں کیے۔ انہوں نے بتایا کہ کرپٹو اثاثوں کے لیے پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی پرپیش رفت جاری ہے   جو لائسنس جاری کرنے اور اس شعبے کو ریگولیٹ کرنے کی ذمہ دار ہوگی جبکہ بینکوں کے لیے کرپٹو کرنسی سے متعلق ریگولیٹری فریم ورک پر متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔ ذیلی کمیٹی کے کنوینر نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو ہدایت کی کہ فیٹف  کے ضوابط، بینکوں کو جاری کی گئی ہدایات اور پولیٹکلی ایکسپوذڈپرسنز  سے متعلق سٹیٹ بینک کی تیار کردہ معیاری طریقہ ہائے کار کمیٹی کو فراہم کیے جائیں۔ ڈپٹی گورنر نے یقین دہانی کرائی کہ سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ تمام متعلقہ ہدایات اور ضوابط ذیلی کمیٹی کو فراہم کر دیئے جائیں گے۔