اسلام آباد، 13 مئی 2026 (اے پی پی):وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں کی ترقی کے لیے حکومتی اقدامات پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سمیڈا کی جانب سے وزیرِ اعظم کی ہدایات پر عملدرآمد میں پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔
محمد شہباز شریف نے کہا کہ چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتیں ملکی معیشت کی ترقی اور برآمدات میں اضافے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ خوش آئند ہے کہ ہارون اختر اور ان کی سمیڈا ٹیم چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں کو آسان قرضوں کی فراہمی، ڈیجیٹل مالی معاونت، رسمی معیشت میں شمولیت اور برآمدی منڈیوں تک رسائی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ سمیڈا اور وزارتِ صنعت کی جانب سے تیار کردہ روڈ میپ اطمینان بخش ہے، تاہم معینہ مدت میں قابلِ حصول اہداف کے ساتھ اس کے اطلاق کا جامع لائحہ عمل پیش کیا جائے۔انہوں نے ہدایت کی کہ کمرشل بینک چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں کو آسان قرضوں کی فراہمی کے لیے مزید اقدامات کریں۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ زراعت میں پراسیسنگ کے شعبوں کو بھی چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کا درجہ دیا جائے۔انہوں نے خواتین کی شمولیت سے متعلق اقدامات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کی آسان قرضوں تک رسائی اور مصنوعات کی برآمدات میں معاونت کے اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے۔
اجلاس کو سمیڈا، وزارتِ صنعت و پیداوار اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ سمیڈا کی جانب سے وزیرِ اعظم کی ہدایت کے مطابق چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں کی ترقی کے لیے 8 تزویراتی شعبوں میں 48 اقدامات پر عملدرآمد جاری ہے، جو آئندہ دو سے چار سال میں مرحلہ وار اہداف کے حصول کو یقینی بنائیں گے۔
اجلاس کو رواں برس کے اہداف اور عملدرآمد رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ بتایا گیا کہ روڈ شوز اور نمائشوں کے ذریعے مقامی و برآمدی منڈیوں تک رسائی، آسان اور کم لاگت قرضوں کی فراہمی، ویلیو چینز کی مضبوطی، اور ڈیٹا بیس کے قیام کے اقدامات جاری ہیں۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے اجلاس کو بتایا کہ گزشتہ مالی سال میں نجی شعبے کو 1.1 کھرب روپے قرض فراہم کیا گیا، جبکہ رواں برس تین سہ ماہیوں میں ہی 904 ارب روپے کے ہدف سے زائد قرض فراہم کیا جا چکا ہے، جس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں کے قرضوں میں 28 فیصد اضافہ شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2028 تک قرضوں کا ہدف 1100 ارب روپے سے بڑھا کر 1500 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔
اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ برآمدی مالی معاونت کے لیے علیحدہ ونڈو قائم کر دی گئی ہے، جس کے بعد 41 نئے ادارے ان سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں۔وزیرِ اعظم نے سمیڈا، وزارتِ صنعت اور متعلقہ ٹیموں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے جامع روڈ میپ جلد پیش کرنے کی ہدایت کی۔
ہارون اختر، اعظم نذیر تارڑ، جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، محمد اورنگزیب، بلال اظہر کیانی، ارکانِ قومی اسمبلی اور اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔











