قومی اسمبلی اجلاس، قیدیوں کے کوٹے پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا، وزیر مملکت برائے داخلہ

8

اسلام آباد،   18مئی (اے پی پی): ق ومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفی شاہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا۔

قومی اسمبلی میں سوالات کے وقفے کے دوران وزیر مملکت برائے داخلہ نے سپریم کورٹ کے کوٹے سے متعلق فیصلے پر عملدرآمد کے معاملے پر ایوان کو آگاہ کیا۔

ایک رکن نے توجہ دلائی کہ سپریم کورٹ نے 2024 سے قبل کے قیدیوں کوٹے کے تحت رعایت دینے کا فیصلہ دیا تھا، جس پر سندھ کے علاوہ کسی صوبے نے عملدرآمد نہیں کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا، پنجاب، بلوچستان اور دیگر صوبوں میں بھی اس فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اب جو بھی بھرتی ہوتی ہے اس میں کوٹے پر مکمل عملدرآمد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ دیگر صوبوں میں بھی سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے معاملہ اٹھایا جائے گا۔

قومی اسمبلی میں سید نوید قمر نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ ایوان کی کارروائی کو پیپر لیس کرنا خوش آئند ہے،اراکین کو فراہم کردہ ٹیبلٹ میں ڈائون لوڈ کردہ ایپ کام نہیں کر رہی۔ڈپٹی سپیکر نے متعلقہ حکام کو ٹیبلٹ کی ایپ کا مسئلہ کل تک حل کرنے کی ہدایت کردی۔

قومی اسمبلی میں نادرا کے ذریعے جاری کیے جانے والے وراثت سرٹیفکیٹ کی فیس پر وضاحت دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا کہ یہ سروس کمائی کے لیے نہیں بلکہ عوام کی سہولت کے لیے شروع کی گئی ہے۔

انہوں نے ایوان کو بتایا کہ اس مد میں اب تک 3600.809 ملین روپے خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ ریکوری صرف 26.667 ملین روپے ہوئی ہے۔ یعنی حکومت اپنی طرف سے اس میں سبسڈی دے رہی ہے۔

طلال چودھری نے کہا کہ 10 ہزار اور 20 ہزار روپے کی فیس قانون سازی کے تحت عائد کی گئی ہے۔ اگر کسی وجہ سے وراثت سرٹیفکیٹ نہ بن سکے یا درخواست مسترد ہو جائے تو 10 ہزار والے کیس میں 5 ہزار اور 20 ہزار والے کیس میں 15 ہزار روپے واپس کر دیے جاتے ہیں، صرف پروسیسنگ فیس رکھی جاتی ہے۔

وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں،سوشل میڈیا پراس حوالے سے  چلنے والی خبریں بے بنیاد ہیں۔

ڈاکٹر طارق فضل نے کہا کہ حکومت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور وزارت خارجہ متعلقہ سفارتی مشنز کے ذریعے رابطے میں ہے۔

وفاقی وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ بین الاقوامی ایجنسیوں کے مطابق پاکستان سے غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے والوں کی تعداد میں 47 فیصد کمی آئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت اس حوالے سے سخت اقدامات نافذ کر رہی ہے اور بغیر قانونی دستاویزات کے کسی کو بھی ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔