پاکستان اور چین کی دوستی پاکستان کا مضبوط ترین قومی اتفاقِ رائے ہے، احسن اقبال

7

بیجنگ،24 مئی( اے پی پی ): وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی ملک کا مضبوط ترین قومی اتفاقِ رائے ہے جس کی حمایت تمام سیاسی جماعتیں مکمل یکجہتی اور مشترکہ وژن کے ساتھ کرتی ہیں۔

پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقدہ ’’چائنا پاکستان پولیٹیکل پارٹیز فورم‘‘ اور ’’سی پیک پولیٹیکل پارٹیز مشاورتی نظام‘‘ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں، تاہم چین کے ساتھ تعلقات اور پاک چین دوستی کے معاملے پر تمام سیاسی قوتیں یکساں مؤقف رکھتی ہیں۔ انہوں نے چینی کمیونسٹ پارٹی کے بین الاقوامی شعبے کی جانب سے مختلف پاکستانی سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے باہمی اعتماد، مکالمے اور تزویراتی ہم آہنگی کو فروغ ملا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے چینی کمیونسٹ پارٹی اور اس کے بین الاقوامی شعبے کے ساتھ قریبی تعلقات دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی اعتماد اور ترقیاتی تعاون کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی حمایت اس منصوبے کے تسلسل اور کامیابی کی ضمانت ہے، جس سے چین کو یہ اعتماد حاصل ہے کہ پاکستان کا عزم سیاسی تبدیلیوں سے متاثر نہیں ہوگا۔

احسن اقبال نے کہا کہ گزشتہ برس ’’نئے دور میں مشترکہ مستقبل کے حامل پاک چین معاشرے‘‘ کے ایکشن پلان پر دستخط دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی تزویراتی جہت دے چکے ہیں۔ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کا یہ قول بھی دہرایا کہ ’’بین الاقوامی حالات جیسے بھی بدلیں، چین ہمیشہ پاکستان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا‘‘، جو دونوں ممالک کے درمیان گہرے اعتماد اور لازوال دوستی کا مظہر ہے۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک، بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کا فلیگ شپ منصوبہ اور پاک چین دوستی کی روشن علامت ہے جس نے پاکستان کے معاشی منظرنامے کو تبدیل کیا۔ ان کے مطابق اس منصوبے نے توانائی بحران کے خاتمے، جدید شاہراہوں اور موٹرویز کی تعمیر، گوادر کی ترقی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی میں تاریخی کردار ادا کیا۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ اب سی پیک 2.0 کے تحت صنعتی ترقی، جدید ٹیکنالوجی، زرعی جدیدکاری، ماحولیاتی پائیداری اور عوامی فلاح پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعاون کو پانچ اقتصادی راہداریوں یعنی ترقیاتی راہداری، روزگار و معاشی بہتری کی راہداری، جدت و اختراع کی راہداری، سبز ترقی کی راہداری اور کھلی و جامع علاقائی ترقی کی راہداری کے فریم ورک کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ ان اقتصادی اہداف کے حصول کے لیے سیاسی سطح پر بھی پانچ راہداریوں کے قیام کی تجویز دی گئی ہے تاکہ پالیسی کے تسلسل، قیادت کے تبادلوں، عوامی روابط اور تزویراتی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ ان مجوزہ سیاسی راہداریوں میں سیاسی مکالمہ و تزویراتی رابطہ، ترقی اور حکمرانی سے متعلق علم کا تبادلہ، نوجوانوں اور مستقبل کی قیادت کی ترقی، عوامی و ثقافتی روابط اور امن و علاقائی تعاون شامل ہیں۔

انہوں نے چین کی ترقی کو دنیا کے لیے ایک مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ چینی قیادت نے 80 کروڑ سے زائد افراد کو غربت سے نکال کر ملک کو دنیا کی دوسری بڑی معیشت بنانے میں کامیابی حاصل کی۔ ان کے مطابق دور اندیش قیادت، طویل المدتی منصوبہ بندی، سیاسی استحکام، میرٹ پر مبنی نظام اور پالیسی کے تسلسل نے چین کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، جس سے ترقی پذیر ممالک بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

احسن اقبال نے زور دیا کہ پاک چین دوستی کے مستقبل کا انحصار نوجوان نسل پر ہے، اس لیے تعلیم، مصنوعی ذہانت، تحقیق، ٹیکنالوجی اور نوجوان قیادت کے تبادلوں کو مزید فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے پاکستان کے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ تمام جاری اور مستقبل کے سی پیک منصوبے بروقت مکمل کیے جائیں گے اور پاکستان میں کام کرنے والے چینی شہریوں اور اداروں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

اپنے خطاب کے اختتام پر احسن اقبال نے شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کے 1935ء میں لکھے گئے اشعار پڑھتے ہوئے کہا کہ یہ ایشیا کی بیداری، چین کے عروج اور خطے میں نئی توانائیوں کی علامت ہیں، اور آج سی پیک اور مشترکہ مستقبل کے پاک چین وژن کے ذریعے یہ خواب حقیقت بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے چین کی قیادت اور عوام کی جانب سے پاکستان کے لیے مسلسل حمایت، گرمجوش میزبانی اور لازوال دوستی پر شکریہ بھی ادا کیا۔