اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا ہیٹی میں پائیدار امن،سلامتی اور استحکام کے لیے ہیٹی کی قیادت میں عمل کی حمایت پر زور

6

اقوامِ متحدہ، 21 جولائی (اے پی پی ):پاکستان نے ہیٹی کو درپیش کثیرالجہتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہیٹی کی قیادت اور ملکیت پر مبنی جامع حکمتِ عملی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پائیدار امن اور استحکام صرف سیاسی اتفاقِ رائے،مضبوط قومی سلامتی کے اداروں اور مربوط علاقائی و بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہیٹی سے متعلق بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ دیرپا استحکام کا انحصار ہیٹی کے تمام متعلقہ فریقوں کی جانب سے دانشمندانہ سیاسی اور طرزِ حکمرانی سے متعلق فیصلوں پر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ متفقہ مدت کے اندر آزادانہ، شفاف اور جامع انتخابات کے انعقاد کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ناگزیر ہے۔

مستقل مندوب نے ملک میں امن و امان کی بحالی، بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال خصوصاً خواتین اور بچوں پر گینگ تشدد کے تباہ کن اثرات سے نمٹنے،اسلحہ چھوڑنے،غیر مسلح کرنے،سابق جنگجوؤں کی بحالی اور معاشرے میں انضمام (DDR) کے عمل کو آگے بڑھانے، اور اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کے نظام پر مؤثر عملدرآمد کے ذریعے ہیٹی میں غیر قانونی ہتھیاروں کی ترسیل روکنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

پاکستان کی جانب سے ہیٹی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ دیرپا حل کے لیے ایک جامع،ہیٹی کی قیادت اور ملکیت پر مبنی عمل ناگزیر ہے،جو مکالمے،تعاون اور مؤثر علاقائی و بین الاقوامی معاونت پر استوار ہو۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ پاکستان ہیٹی میں پائیدار امن،ترقی اور خوشحالی کے قیام کے لیے اپنی تعمیری معاونت جاری رکھے گا۔