اسلام آباد، 2 جون ( اے پی پی): سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن کا اجلاس سینیٹر عامر ولی الدین چشتی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔اجلاس میں صحت کے شعبے میں اصلاحات، بحالی خدمات، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی کارکردگی، عوامی صحت کے چیلنجز اور صحت سے متعلق پالیسی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ری ہیبلیٹیشن میڈیسن کی کارکردگی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ادارہ معذور افراد کے علاج، فزیو تھراپی، پیشہ ورانہ تھراپی اور بحالی کی دیگر جامع خدمات فراہم کر رہا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کا قیام 1998 میں ہوا جب اسلام آباد کی آبادی تقریباً 1.94 ملین تھی۔ اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ دارالحکومت کی آبادی اب 2026 میں 3.5 ملین تک پہنچ گئی ہے، جس سے بحالی اور صحت کی دیکھ بھال کی خدمات کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے بتایا کہ انسٹی ٹیوٹ نہ صرف اسلام آباد کے مریضوں کی خدمت کرتا ہے بلکہ ملک بھر کے دیگر صوبوں سے بھی مریضوں کو وصول کرتا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ NIRM کو 641.879 ملین روپے کا بجٹ مختص کیا گیا تھا جس میں سے اب تک تقریباً 70 فیصد استعمال ہو چکا ہے۔کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ 1998 میں قائم ہونے والے ادارے پر بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث خدمات کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ حکام کے مطابق ادارے کو 641.879 ملین روپے کا بجٹ مختص کیا گیا، جس کا تقریباً 70 فیصد استعمال ہو چکا ہے۔
کمیٹی اجلاس میں سینیٹر سید مسرور احسن نے صحت سہولیات تک رسائی میں عدم مساوات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فیس اسٹرکچر کی تفصیلات طلب کیں۔ اراکین نے گزشتہ 5 سال کے مریضوں کے اعداد و شمار اور 4 سالہ بجٹ استعمال پر رپورٹ مانگ لی، جبکہ وزارت اور این آئی آر ایم کو جامع ڈیٹا فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی۔
کمیٹی اراکین نے مریضوں سے وصول کی جانے والی فیسوں، بجٹ کے استعمال اور گزشتہ برسوں کے دوران علاج حاصل کرنے والے مریضوں کے اعداد و شمار طلب کیے، جبکہ وزارت صحت اور ادارے کی انتظامیہ کو جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔اجلاس کے دوران وفاقی وزیر صحت نے سروائیکل کینسر ویکسین کے اجرا اور اس حوالے سے عوامی آگاہی مہم میں درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے زچگی کی صحت کی تشویشناک صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں ہر سال تقریباً 11 ہزار خواتین حمل سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث جان کی بازی ہار جاتی ہیں۔ کمیٹی نے صحت عامہ سے متعلق آگاہی، ویکسینیشن اور زچگی کی صحت کے پروگراموں کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا۔
کمیٹی کو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی ڈسپلنری کمیٹی کی کارکردگی پر بھی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ اب تک 498 شکایات موصول ہو چکی ہیں جبکہ 114 ڈاکٹروں کے لائسنس معطل کیے جا چکے ہیں۔











