وزیراعظم سے معروف صنعتکاروں اور کاروباری شخصیات کے وفد کی ملاقات، بجٹ تجاویز اور معاشی پالیسیوں پر مشاورت

17

اسلام آباد، 3 جون (اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملک کے معروف صنعتکاروں اور ممتاز کاروباری شخصیات کے ایک وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات ملک کی مجموعی معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے اور مالی سال 2026-27 کے بجٹ کے حوالے سے کاروباری برادری سے مشاورت کے تناظر میں منعقد ہوئی۔

وفد میں میاں محمد منشاء، عارف حبیب، عاطف باجوہ، محمد علی تبہ، مصدق ذوالقرنین، زیاد بشیر، شہزاد سلیم، زیلاف منیر، عمر سعید، عمر منشاء، یوسف سعید، کامران ارشد، خرم مختار، آصف پیر، سلطان گوہر اعجاز، فواد انور، ذوالفقار حیات، جاوید اقبال، یوسف حسین، عامر ابراہیم، خواجہ مسعود اختر اور اعجاز نبی شامل تھے۔

وزیراعظم نے وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ پاکستان کے سفیر اور دنیا میں ہماری پہچان ہیں۔ انہوں نے مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر کاروباری برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری معاشی ترقی کی ضمانت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کے حوالے سے پالیسی سازی میں کاروباری برادری سے مشاورت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت برآمدات پر مبنی ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور یہی معاشی پالیسی کا محور ہے۔ انہوں نے بتایا کہ غیر رسمی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ آئندہ بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے بھی اقدامات شامل کیے جا رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ کاروبار دوست پالیسیوں کی بدولت ملکی معیشت مستحکم ہوئی ہے اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایسی صنعتوں کے فروغ کے لیے کوشاں ہے جن سے ملکی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ ہو اور زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ ان کے مطابق صنعت، زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ترقی سے معیشت کو مزید استحکام ملے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے تکنیکی اور فنی تربیت کے پروگرام شروع کیے گئے ہیں تاکہ انہیں روزگار کے حصول میں آسانی ہو اور وہ قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔

اجلاس کے دوران وفد کو کاروبار، صنعت اور تجارت کے فروغ کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ٹیکس مقدمات جلد نمٹانے کے لیے ٹیکس ٹریبونلز میں اصلاحات کی گئی ہیں اور ان میں انتہائی شفاف طریقہ کار کے ذریعے بھرتیاں کی گئی ہیں۔ اسپیشل کمرشل کورٹس کے قیام کے حوالے سے کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ کراچی کی بندرگاہوں سے اندرون ملک رسائی بہتر بنانے کے لیے موٹر وے ایم-10 کی اپ گریڈیشن اور پیپری فریٹ کوریڈور پر کام جاری ہے جبکہ موٹر وے ایم-13 (کھاریاں، راولپنڈی) کی تعمیر سے لاہور اور اسلام آباد کے درمیان فاصلہ کم ہو جائے گا۔ پاکستان ریلوے کی ایم ایل-ون اور ایم ایل-ٹو کی اپ گریڈیشن سے ریلوے کا بنیادی ڈھانچہ بہتر ہوگا اور تجارتی سامان کی ترسیل میں سہولت پیدا ہوگی۔

شرکاء کو یہ بھی بتایا گیا کہ نیشنل اے آئی ٹرانسفارمیشن پلان تشکیل دیا جا رہا ہے جبکہ شوگر اور سیمنٹ سیکٹر کی پیداوار کی نگرانی کے لیے ویڈیو اینالیٹکس کی تنصیب سے محصولات میں بہتری آئی ہے۔

وفد نے خطے میں امن کی بحالی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر وزیراعظم اور ان کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا اور وزیراعظم کی قیادت میں معاشی بحالی کے سفر اور بہتر مالیاتی نظم و نسق پر اعتماد کا اظہار کیا۔

کاروباری رہنماؤں نے ملکی معیشت کو درست سمت میں گامزن کرنے اور کاروبار و سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے پر وزیراعظم اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ڈیجیٹل ادائیگیوں اور دستاویزی معیشت کے فروغ کے حکومتی وژن کو سراہتے ہوئے ٹیکس اصلاحات اور کاروباری آسانیوں کے فروغ کے اقدامات کا خیرمقدم کیا۔

وفد نے صنعتوں کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی، ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ لیوی کے خاتمے اور ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگیوں پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ شرکاء نے آئندہ بجٹ کی تیاری میں کاروباری برادری کو اعتماد میں لینے کے اقدام کو سراہا اور قومی معیشت کی مضبوطی اور بجٹ کے حوالے سے اپنی تجاویز وزیراعظم کو پیش کیں۔

کاروباری برادری نے معاشی بحالی اور ترقی کے لیے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا جبکہ وفد کے شرکاء نے صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے حکومتی عزم کو بھی سراہا۔

اجلاس میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس احمد لغاری، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان، اٹارنی جنرل منصور اعوان، گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔