بھارت میں” کاکروچ جنتا پارٹی” کی مقبولیت؛ مودی حکومت اور کارپوریٹ میڈیا کا نوجوانوں کی “جین زی” تحریک کے خلاف پروپیگنڈا شروع

5

اسلام آباد، 4 جون (اے پی پی:( بھارت میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، شدید معاشی مشکلات اور بنیادی سہولتوں کی کمی سے مایوس نوجوانوں کی نئی نسل کی تحریک “جین زی” کی مقبولیت سے بوکھلا کر مودی حکومت اور بھارتی میڈیا نے اس کے خلاف باقاعدہ پروپیگنڈا شروع کر دیا ہے۔

بین الاقوامی نشریاتی ادارے “الجزیرہ” کی رپورٹ کے مطابق، بھارت میں نوجوانوں کی اس نئی سیاسی تحریک، جسے ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ (سی جے پی) کا نام دیا گیا ہے، نے اپنے منشور میں مودی حکومت کی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ کارپوریٹ بھارتی میڈیا کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے مودی حکومت کے قریبی سمجھے جانے والے بڑے کاروباریوں ‘اڈانی اور امبانی’ کے میڈیا گروپس کے لائسنس منسوخ کرنے کا باقاعدہ مطالبہ کیا ہے، جس کے بعد بھارتی میڈیا مودی حکومت کا ساتھ دینے کے لیے اس نوجوان تحریک کے خلاف یکطرفہ مہم چلا رہا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ “جین زی” تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے نے بھارتی میڈیا گروپس سے کسی بھی قسم کی بات چیت کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں ابھجیت دیپکے کا کہنا تھا کہ اگر بھارتی میڈیا مسلسل ہمیں دہشت گرد ہی کہتا رہے گا، تو پھر ان سے بات کرنے یا اپنا موقف پیش کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اس حوالے سے خود بھارتی صحافیوں کا کہنا ہے کہ بھارت میں پچھلے 12 سال سے مودی حکومت کی ناکام پالیسیوں پر سوال اٹھانے والے ہر شخص یا گروہ کو بھارتی میڈیا ‘ملک دشمن’ قرار دیتا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، عوام اور نوجوانوں میں اس تحریک کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوفزدہ ہو کر مودی حکومت نے ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کا آفیشل ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) اکاؤنٹ بھی بند کر دیا ہے تاکہ ان کی آواز کو دبایا جا سکے۔

سیاسی و سماجی ماہرین کے مطابق، بھارت میں نئی نسل (جین زی) کی اس اچھوتے نام والی تحریک کا ابھرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نریندر مودی کا موجودہ سیاسی و معاشی نظام نوجوانوں کی امیدیں پوری کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ ماہرین نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی میڈیا ملک کے دکھی نوجوانوں کی آواز بننے اور ان کے مسائل اجاگر کرنے کے بجائے مودی حکومت کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہا ہے، جو صحافتی اصولوں کے سراسر منافی ہے۔