وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ایف بی آر میں جاری اصلاحات پر جائزہ اجلاس

6

اسلام آباد ، 4 0جون ( اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ایف بی آر میں جاری اصلاحات پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں ٹیکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ٹیکس وصولیوں میں اضافے کیلئے جاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ان لینڈ ریونیو کی وصولیوں کو مزید مؤثر، شفاف اور فیس لیس بنانے کے لیے ایک جامع منصوبہ پیش کیا گیا۔

 اس موقع پر  وزیراعظم نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے ذریعے ایک خودکار، جدید اور مؤثر ٹیکس مینجمنٹ نظام کا یہ منصوبہ حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔ ٹیکس وصولی کے نظام میں انسانی مداخلت اور صوابدیدی اختیارات کو کم سے کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، اس منصوبے کے نفاذ سے نہ صرف محصولات میں اضافہ ہوگا بلکہ ٹیکس نظام میں شفافیت، انصاف اور عوامی اعتماد کو بھی فروغ ملے گا، معیشت کی دستاویزی شکل اور ٹیکس نیٹ میں توسیع کے لیے ایف بی آر اصلاحات کا عمل جاری رہے گا ، غیر قانونی سگریٹس کے خلاف مؤثر کارروائیوں پر وزیراعظم ن ے صوبائی حکومتوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور انکم ٹیکس وصولی کے مجوزہ آٹومیٹڈ نظام کا پائلٹ اسلام آباد سے شروع کرنے کی ہدایت  کر دی۔

  اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ ٹیکس کا نیا مجوزہ  نظام جائیدادوں، گاڑیوں اور بینکوں کے ڈیٹا کے ذریعے کم ظاہر کی گئی آمدن اور اثاثوں کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جدید ٹیکنالوجی  کے ذریعے ٹیکس کے نظام کو خودکار، شفاف اور مؤثر بنایا جائے گا ، نئے نظام کے تحت  نیشنل فیس لیس آڈٹ ونگ، نیشنل اسیسمینٹ ونگ اور فیلڈ آپریشنز ونگ قائم کرنے کی تجویز ہے ۔ انفورسمنٹ اقدامات کے ذریعے سگریٹ کے شعبے سے قومی خزانے کو اس سال 40 ارب روپے اضافی ٹیکس وصولی متوقع ہے۔ اجلاس میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین ، اعظم نزیر تارڑ، مصدق مسعود ملک ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا ء  اللہ  تارڑ، شزافاطمہ خواجہ، علی پرویز ملک ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، معاون خصوصی ہارون اختر اور اعلیٰ سرکاری حکام  نے شرکت کی۔