اقوام متحدہ، 5 جون ( اے پی پی):پاکستان نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کی 2025 کی سالانہ رپورٹ نے کونسل کے ایجنڈے پر موجود دیرینہ تنازعات، بالخصوص مسئلۂ فلسطین اور جموں و کشمیر تنازعے کی مسلسل اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ یہ دونوں مسائل علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں اور ان کا حل بین الاقوامی قانونی اصولوں اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
آج جنرل اسمبلی میں سلامتی کونسل کی سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ رپورٹنگ کے عرصے کے دوران بھارت-پاکستان سوال سے متعلق بیس سے زائد مراسلات سلامتی کونسل کی توجہ کے لیے پیش کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ سلامتی کونسل نے مئی 2025 میں اس ایجنڈا آئٹم کے تحت بند کمرہ مشاورت بھی منعقد کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ امر اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ جموں و کشمیر تنازعہ، جو سات دہائیوں سے زائد عرصے سے سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے، بدستور کونسل کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان کا یقین ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام جموں و کشمیر تنازعے کے منصفانہ حل سے مشروط ہے، جو سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔ کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت استعمال کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے، جس کا وعدہ سلامتی کونسل اور بین الاقوامی برادری نے ان سے کر رکھا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں، خصوصاً غزہ میں جاری انسانی المیہ بھی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر نمایاں طور پر موجود رہا۔ انہوں نے کہا کہ خونریزی روکنے میں بار بار ناکامی کے بعد سلامتی کونسل نے قرارداد 2803 منظور کی، جس نے غزہ امن منصوبے کی توثیق کرتے ہوئے امید کی ایک نئی کرن پیدا کی۔ انہوں نے زور دیا کہ قرارداد 2803 پر مکمل اور مخلصانہ عمل درآمد ناگزیر ہے۔
اس موقع پر پاکستان نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، قابلِ عمل اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام، اور القدس الشریف کو اس کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ سلامتی کونسل نے بین الاقوامی امن و سلامتی کے قیام و تحفظ سے متعلق متعدد امور پر فعال انداز میں غور کیا، جن میں افریقہ، مشرق وسطیٰ، مغربی ایشیا، جنوبی ایشیا، یورپ، لاطینی امریکہ اور دیگر خطوں میں جاری تنازعات اور بحران شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کونسل نے موضوعاتی امور پر بھی خصوصی توجہ دی، جن میں اقوام متحدہ کو مرکزیت دیتے ہوئے کثیرالجہتی نظام کا فروغ، مسلح تنازعات میں شہریوں کا تحفظ اور تنازعات کا پرامن حل شامل ہیں۔
انہوں نے پاکستان کی جانب سے پیش کردہ اور متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ قرارداد تنازعات کے پرامن حل اور اقوام متحدہ کے منشور میں موجود تنازعات کی روک تھام اور حل کے طریقہ کار کے مؤثر استعمال کے لیے مشترکہ عزم کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی سلامتی کونسل کے اندر بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور اختلافات کے باوجود حاصل ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے جولائی 2025 میں سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران 2025 کی سالانہ رپورٹ کے تعارفی حصے کی تیاری اور مسودہ سازی کی ذمہ داری نبھائی۔ بطور قلم کار ، پاکستان کا مقصد ایک ایسی رپورٹ تیار کرنا تھا جو جامع، معروضی، تجزیاتی اور اتفاقِ رائے پر مبنی ہو، اگرچہ اس میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔
رپورٹ کی تیاری کے طریقہ کار پر روشنی ڈالتے ہوئے سفیر عاصم نے کہا کہ تمام اراکین، بشمول سبکدوش ہونے والے اراکین، کے تعمیری تعاون سے تعارفی حصے پر جلد اتفاقِ رائے حاصل کر لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں اقوام متحدہ کے امن مشنز اور خصوصی سیاسی مشنز کے کلیدی کردار کو اجاگر کیا گیا ہے، اور پاکستان نے مؤثر، مناسب وسائل سے لیس اور عصری چیلنجز سے ہم آہنگ امن کارروائیوں کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
انہوں نے سلامتی کونسل کے ذیلی اداروں کے سربراہان اور نائب سربراہان کی تقرری میں مسلسل تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس عمل کو مزید شفاف، مؤثر اور قابلِ پیش گوئی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستان نے سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، شفافیت، جوابدہی اور وسیع تر رکنیت کے لیے مؤثر جوابدہی کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے موجودہ عالمی چیلنجز کے تناظر میں ایک زیادہ جمہوری، نمائندہ اور جوابدہ کثیرالجہتی نظام کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ ویٹو کا استعمال اب بھی رکن ممالک کے لیے ایک بڑی تشویش کا باعث ہے، جس سے سلامتی کونسل میں اصلاحات کی ضرورت مزید نمایاں ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نزدیک سلامتی کونسل کی اصلاحات کو جوابدہی، مساوات، شمولیت، شفافیت اور اتفاقِ رائے کے اصولوں پر مبنی ہونا چاہیے۔
انہوں نے مستقل نشستوں اور ویٹو اختیارات میں توسیع کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات اصلاحات کے بنیادی مقاصد کو نقصان پہنچائیں گے۔
انہوں نے سلامتی کونسل میں ایسی جامع اصلاحات کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا جو وسیع تر رکنیت کے مفادات کی عکاس ہوں، اور پاکستان کے اصولی مؤقف ’’سب کے لیے اصلاحات، کسی کے لیے خصوصی مراعات نہیں‘‘ کو دہرایا۔











