اسلام آباد،6 جون ( اے پی پی): معروف خبر رساں ایجنسی کشمیر میڈیا سروس کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں معصوم بچے بھارتی ریاستی تشدد اور انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کا سب سے زیادہ نشانہ بن رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوری 1989 سے اب تک بھارتی فوجی کارروائیوں میں شہید ہونے والے 96 ہزار 497 کشمیریوں میں 933 بچے بھی شامل ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران جاری تنازع اور فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ایک لاکھ آٹھ ہزار سے زائد کشمیری بچے یتیم ہو چکے ہیں، جبکہ 2010 کے بعد پیلٹ گنوں اور آنسو گیس کے استعمال سے سینکڑوں بچے بینائی سے محروم ہوئے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ متعدد کم عمر کشمیری بچے مبینہ جعلی مقابلوں میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ کئی دیگر مختلف قوانین کے تحت حراست میں ہیں۔ آزادی پسند رہنماؤں نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں متاثرہ بچوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بچوں کی صورتحال پر بین الاقوامی توجہ کی ضرورت ہے، جبکہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی مختلف رپورٹس میں بھی خطے میں انسانی حقوق کے مسائل کو اجاگر کیا جاتا رہا ہے۔
عالمی ماہرین کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تنازع زدہ علاقوں میں بچوں پر تشدد اور ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزیاں سنگین انسانی المیہ بن چکی ہیں، اور عالمی قوانین و معاہدوں کے باوجود مقبوضہ کشمیر کے بچے اس صورتحال کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔











