آبادی میں استحکام پاکستان کی پائیدار ترقی کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے: وفاقی وزیر صحت

5

اسلام آباد، 9 جون (اے پی پی(:وزارتِ قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ نے ڈرافٹ نیشنل پاپولیشن اسٹیبلائزیشن پروگرام 2026 تا 2035 کے حوالے سے ایک قومی مشاورتی اجلاس منعقد کیا جسے وزارتِ خزانہ کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔ اجلاس میں وزارتِ خزانہ، پلاننگ کمیشن، اقتصادی امور ڈویژن، اقوام متحدہ کے اداروں، بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں، پاپولیشن کونسل اور دیگر متعلقہ فریقین کے نمائندوں نے شرکت کی۔

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے اپنے بیان میں کہا کہ آبادی میں استحکام محض ایک پالیسی آپشن نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی بقا، سماجی ترقی اور مستقبل کی خوشحالی کے لیے ایک قومی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی عزم، بین الصوبائی ہم آہنگی اور مؤثر وسائل کی فراہمی وہ بنیادی عناصر ہیں جو اس منصوبے کو زمینی سطح پر قابلِ عمل نتائج میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیرس اعلامیے کے اصولوں پر دستخط کنندہ ہے اور یہ ڈرافٹ نیشنل پاپولیشن اسٹیبلائزیشن پروگرام انہی اصولوں کے مطابق ملک کی ملکیت میں تیار کیا گیا ایک شواہد پر مبنی اور نتائج پر مرکوز فریم ورک ہے جسے قومی ترجیحات، آبادیاتی حقائق اور عالمی بہترین طریقہ کار کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاندانی منصوبہ بندی یونیورسل ہیلتھ کوریج تک رسائی کا بنیادی راستہ ہے اور اس کے بغیر پاکستان زچہ و بچہ کی صحت کے اہداف، صنفی مساوات اور غربت میں کمی حاصل نہیں کر سکتا۔

وفاقی وزیر صحت نے ترقیاتی شراکت داروں بشمول اقوام متحدہ کا ادارہ برائے آبادی، عالمی ادارہ صحت، برطانوی دفتر خارجہ دولت مشترکہ و ترقی، عالمی ویکسین اتحاد، ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک کی طویل المدتی تکنیکی اور مالی معاونت کو سراہا اور پاکستان کے صحت اور آبادی کے شعبوں میں ان کی مسلسل شراکت داری پر شکریہ ادا کیا۔

اس موقع پر وزیر خزانہ کے مشیر برائے مالیات عدنان پاشا نے ملک کی آبادیاتی صورتحال کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی آبادی غیر معمولی رفتار سے بڑھ رہی ہے اور موجودہ رجحان برقرار رہنے کی صورت میں 2050 تک یہ 390 ملین تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت ایک اہم آبادیاتی موڑ پر کھڑا ہے اور اسی رفتار کے ساتھ آگے بڑھنے کی صورت میں پانی، خوراک، رہائش، تعلیم اور صحت کے بنیادی ڈھانچے سمیت محدود وسائل پر شدید دباؤ پڑے گا۔

ترقیاتی شراکت داروں نے بھی اپنی پالیسی آراء پیش کیں اور پاکستان میں آبادی کے ایجنڈے کی حمایت کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اس ایجنڈے کی قیادت کرنی چاہیے جبکہ میڈیا، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی تنظیموں، بین الاقوامی اور غیر سرکاری تنظیموں اور نجی شعبے کو بھی اس میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

شرکاء نے آبادی میں استحکام کے پروگرام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اپنی ماہرانہ آراء اور تجاویز بھی پیش کیں۔