اسلام آباد ، 10 جون (اے پی پی ): کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بلوائیوں کے انسانیت سوز مظالم کی ہولناک ویڈیو منظرِ عام پر آ گئی ہے۔
کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سرغنہ شوکت اور خارجی شہزاد کے بیانات، جو پہلے ہی منظر عام پر ہیں، سے واضح ہے کہ راولاکوٹ میں ہونے والے پرتشدد واقعات ایک منظم منصوبہ بندی کا حصہ تھے۔ اسی منصوبہ بندی کے تحت سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا، لاشوں کی سیاست کی گئی اور سی ایم ایچ راولاکوٹ پر حملہ کیا گیا تاکہ حالات خراب کر کے احتجاج کا ماحول پیدا کیا جائے۔ 7 جون کی رات کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں نے ہسپتال میں تعینات پولیس اہلکاروں پر سیدھے فائر کر کے انہیں شہید کیا۔ اس کے بعد وارڈ میں موجود مریضوں پر چھریوں اور نوک دار ہتھیاروں سے قاتلانہ حملے کیے گئے۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے بلوائیوں نے ہسپتال میں زیر علاج دیگر مریضوں اور عملے کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا اور یرغمال بنا رکھا۔ شرپسندوں نے سی ایم ایچ راولاکوٹ میں توڑ پھوڑ کی اور املاک کو شدید نقصان پہنچایا۔
ماہرین کے مطابق جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت جنگ کے دوران بھی ہسپتالوں، طبی مراکز، ایمبولینسوں، مریضوں اور طبی عملے کو خصوصی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا ہسپتال کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے اور جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی ایما پر ہسپتالوں پر حملے، مریضوں پر تشدد اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والے عناصر کا مقصد حقوق کا حصول نہیں بلکہ انتشار اور دہشت گردی پھیلانا ہے۔ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے پرتشدد اقدامات پیشگی منصوبہ بندی اور اشتعال انگیزی کے نتیجے میں ہوئے، جن میں بھارت اور افغانستان کا شرمناک کردار واضح ہے۔ اسی وجہ سے کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سرغنہ عہدے داروں کی گرفتاری کے لیے معلومات فراہم کرنے پر ایک ایک کروڑ روپے کا انعام رکھا گیا ہے۔
ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ ہسپتالوں پر حملوں میں ملوث تمام شرپسندوں کو قانون کے مطابق سخت سزا دے کر نشانِ عبرت بنایا جائے۔











