اسلام آباد 10جون : (اے پی پی ): قومی اسمبلی کے وقفہ سوالات کے دوران وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں بالخصوص قیدیوں کے مسائل اور حکومتی اقدامات سے ایوان کو آگاہ کیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ سپین، برطانیہ اور دیگر ممالک جہاں سزائے موت ختم ہو چکی ہے، وہاں اس وقت کوئی بھی پاکستانی قیدی سزائے موت کی سزا نہیں کاٹ رہا۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ بیرون ملک جہاں لاکھوں پاکستانی روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں، اگر کوئی پاکستانی کسی مقدمے کا سامنا کر رہا ہے یا جیل میں ہے تو “ہماری ایمبیسی میں باقاعدہ سیکشن موجود ہے جو جیلوں کا دورہ کر کے قیدیوں کے معاملات دیکھتا ہے۔
وفاقی وزیر نے وضاحت کی کہ سفارتی مشن کے افسران ہفتہ وار بنیادوں پر قیدیوں سے ملاقات کرتے ہیں اور ان کے صحت کے مسائل، اہل خانہ سے رابطے میں مشکلات سمیت تمام مسائل کو حل کیا جاتا ہے، اگر کوئی قیدی قانونی معاونت یا وکیل کا انتظام نہیں کر سکتا تو اس کا پورا بندوبست بھی ایمبیسی کرتی ہے۔
انہوں نے برطانیہ کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “اس معاہدے کے تحت 2024 میں 6 پاکستانی قیدی اور 2025 میں 3 پاکستانی قیدی وطن واپس لائے گئے، جبکہ 2024 کے 5 مزید کیسز بھی مکمل ہو چکے ہیں۔
وفاقی وزیر نے یقین دلایا کہ حکومت بیرون ملک مقیم تمام پاکستانیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے اور سفارتخانوں کے ذریعے ہر ممکن معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ قومی اسمبلی کے وقفہ سوالات کے دوران وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور نے صومالی قزاقوں کے ہاتھوں اغوا کیے گئے پاکستانی شہریوں کے معاملے پر ایوان کو آگاہ کیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ خدشہ پہلے بھی رہا ہے کہ جو لوگ وہاں پر ٹریڈنگ کرتے ہیں، ان کے اسٹاف کو بھی اس طرح کے واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس سے پہلے بھی اس نوعیت کے واقعات ہو چکے ہیں۔انہوں نے ایوان کو بتایا کہ ماضی میں بھی پاکستانی شہری صومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنے تھے جنہیں کامیابی سے بازیاب کروا لیا گیا تھا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ آج بھی ان پاکستانیوں کی رہائی کے لیے پوری کوششیں جاری ہیں۔
وفاقی وزیر نے یقین دلایا کہ میں ایوان کے اس تشویش کو متعلقہ حکام تک پہنچاؤں گا۔ حکومت کی طرف سے یہ یقین دہانی کرواتا ہوں کہ ان پاکستانیوں کی رہائی کے لیے ہمارے پاس جو بھی ممکن وسائل اور سفارتی رابطے ہیں، وہ سب بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈپٹی پرائم منسٹر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اس ایشو کو ذاتی طور پر دیکھ رہے ہیں اور صورتحال کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت اغوا ہونے والے پاکستانیوں کی بحفاظت واپسی کے لیے ہر سطح پر کوششیں کر رہی ہے۔











