اسلام آباد،10جون (اے پی پی):پاکستان پوسٹ نے عالمی یوم دستکاری کے موقع پر پاکستان کے روایتی اور قیمتی فن دستکاری بلیو پاٹری(نیلی مٹی کے برتن سازی) کے اعزاز میں تین یادگاری ڈاک ٹکٹوں اور ایک خصوصی سووینئر شیٹ کا اجراء کیا ہے۔تقریب رونمائی کی سیکریٹری وزارت مواصلات علی شیر محسود اورسابق وفاقی سیکریٹری کیپٹن (ر)عثمان علی عیسانی نے مشترکہ طور پرصدارت کی جبکہ اس موقع پر اعلیٰ سرکاری حکام اور پاکستان پوسٹ کے نمائندگان بھی موجود تھے۔اس یادگاری اجراء کے ذریعے بلیو پاٹری کی شاندار روایت کو خراج تحسین پیش کیا گیا جو اپنے منفرد نیلے رنگ، دلکش پھولدار نقش و نگار اور اعلیٰ درجے کی کاریگری کے لیے مشہور ہے۔ تاریخی شہر ملتان سے منسوب یہ فن صدیوں پر محیط ثقافتی اور فنی ورثے کی عکاسی کرتا ہے اور پاکستان کی ثقافتی شناخت کی ایک نمایاں علامت سمجھا جاتا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری وزارت مواصلات علی شیر محسود نے پاکستان کی روایتی دستکاریوں اور ثقافتی ورثے کے تحفظ اور فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے پاکستان پوسٹ کی ان کوششوں کو سراہا جن کے ذریعے یادگاری ڈاک ٹکٹوں اور فلیٹیلک سرگرمیوں کے ذریعے ملک کی تاریخ، فن اور ثقافت کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔اپنے خطاب میں عثمان علی عیسانی نے فنکاروں اور ہنرمندوں کی خدمات کے اعتراف میں اس خصوصی ڈاک ٹکٹ سیریز کے اجراء پر پاکستان پوسٹ کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ دستکاریاں کسی بھی قوم کی تخلیقی صلاحیتوں، تاریخ اور شناخت کی نمائندہ ہوتی ہیں، لہٰذا ان روایات کا تحفظ اور فروغ آئندہ نسلوں کے لیے نہایت ضروری ہے۔
ڈائریکٹر جنرل پاکستان پوسٹ سکواڈرن لیڈر مقصود احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان یادگاری ڈاک ٹکٹوں کا اجراء پاکستان پوسٹ کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک کے متنوع ثقافتی ورثے کو اجاگر کیا جائے۔ انہوں نے ان نسل در نسل ہنرمندوں کو خراج عقیدت پیش کیا جن کی محنت، لگن اور مہارت نے بلیو پاٹری کی روایت کو آج تک زندہ رکھا ہوا ہے۔یہ یادگاری سیٹ تین ڈاک ٹکٹوں اور ایک سووینئر شیٹ پر مشتمل ہے جنہیں بلیو پاٹری کی خوبصورتی اور فنی عظمت کو نمایاں کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ان ڈاک ٹکٹوں کے ڈیزائنر ابو عبیدہ ایاز ہیں جو پاکستان کے کم عمر ترین ڈاک ٹکٹ ڈیزائنر ہیں۔ ان کے تخلیقی ڈیزائن روایتی نقوش کو جدید انداز میں پیش کرتے ہیں تاکہ اس قدیم فن کو وسیع تر سطح پر متعارف کرایا جا سکے۔ڈاک ٹکٹوں اور سووینئر شیٹ کے علاوہ پاکستان پوسٹ نے ایک خصوصی فرسٹ ڈے کور معلوماتی فلیٹیلک کتابچہ اور یادگاری منسوخی مہریں بھی جاری کی ہیں۔مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ یہ فلیٹیلک اجراء نہ صرف پاکستان کے ماہر ہنرمندوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہے بلکہ روایتی فنون اور دستکاریوں کے تحفظ کی اہمیت سے آگاہی پیدا کرنے کا بھی ذریعہ ہے۔ اس اقدام کے ذریعے پاکستان پوسٹ پاکستان کے ثقافتی ورثے کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے اور اس کی قدر و منزلت بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔یادگاری ڈاک ٹکٹ، سووینئر شیٹ اور دیگر متعلقہ فلیٹیلک مواد ملک بھر کے منتخب ڈاک خانوں اور فلیٹیلک بیوروز سے دستیاب ہیں۔تقریب کے اختتام پر پاکستان کے شاندار ثقافتی اور فنی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے عزم کا اعادہ کیا گیا تاکہ فلیٹلی اور عوامی شمولیت کے ذریعے ان روایات کو آئندہ نسلوں تک منتقل کیا جا سکے۔











