عوامی مسائل سے علیحدگی پسند ایجنڈے تک: نقاب اتر گیا، ماہرین کا اظہارِ تشویش

2

اسلام آباد/مظفرآباد، 11 جون(اے پی پی):آزاد کشمیر میں حالیہ دنوں کے دوران آٹے، بجلی اور مہنگائی کے نعروں سے شروع ہونے والی تحریک کا رخ علیحدگی پسند بیانیے کی طرف مڑنے پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کچھ عناصر عوامی مشکلات پر بنائی گئی ہمدردی کو ایک ایسے بیانیے کی طرف موڑ رہے ہیں جو کشمیر اور ریاست کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم ہے۔

اطلاعات کے مطابق تحریک کے دوران پاسپورٹ، الگ جھنڈے اور الگ ریاستی شناخت جیسے مطالبات سامنے آئے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ان مطالبات کا اصل مقصد بھارتی ایجنڈے کو تقویت دینا ہے، اور گزشتہ چند دنوں کے واقعات سے ثابت ہوا ہے کہ عوامی مطالبات کے پردے میں سیاسی انتشار کا بیانیہ آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سرغنہ کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات میں کہا گیا کہ کشمیر کے لوگ اپنا جھنڈا، اپنی اسمبلی اور اپنا پاسپورٹ بھی رکھیں گے اور یہی ہمارا خواب ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی ہم میں سے ایک بھی زندہ رہے گا، وہ حقِ ملکیت، حقِ آزادی، حقِ اختیار کی لڑائی کو آگے بڑھائے گا۔

معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ بیانیہ بھارتی بیانیے کی عکاسی کرتا ہے، جسے بھارتی میڈیا، بھارت نواز سوشل میڈیا نیٹ ورکس اور پاکستان مخالف حلقوں کی جانب سے غیر معمولی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کشمیر کاز ہمیشہ اتحاد، سیاسی استقامت اور بین الاقوامی قانونی مؤقف کی بنیاد پر آگے بڑھا ہے۔ خطے میں تقسیم پیدا کرنا خالصتاً ایک بھارتی خواہش ہے۔انہوں نے مزید خبردار کیا کہ جو عناصر آزاد کشمیر میں عدم استحکام پیدا کر رہے ہیں، وہ دانستہ طور پر انہی قوتوں کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں جو کشمیر کے بنیادی مقدمے کو بین الاقوامی سطح پر کمزور دیکھنا چاہتی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق عوامی مسائل کی آڑ میں علیحدگی پسند ایجنڈے کو فروغ دینے کی یہ کوشش کشمیر کاز کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے اور اس سے خطے کے امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔