اقوامِ متحدہ میں پاکستان نے بین تہذیبی مکالمے کو عصرِ حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے کی کلید قرار دے دیا

2

اقوامِ متحدہ، 10 جون ( اے پی پی ): پاکستان نے اختلافات سے بالاتر ہو کر باہمی افہام و تفہیم، تعاون اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کو مؤثر ترین ذرائع قرار دیا ہے۔

پاکستان نے کہا کہ تاریخ کے اس نازک مرحلے پر، جب عالمی امن اور ہم آہنگی کو متعدد چیلنجز درپیش ہیں، بین تہذیبی مکالمے کی اہمیت کو کسی بھی طور کم نہیں سمجھا جا سکتا۔

چین کے مستقل مشن کے زیرِ اہتمام اقوامِ متحدہ میں “بین تہذیبی مکالمے کے عالمی دن” کے موقع پر منعقدہ اعلیٰ سطحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ مکالمے کی روح ہی وہ قوت ہے جس نے انسانی تہذیب کو باہمی احترام اور اعتماد کے فروغ، اور مشترکہ ترقی و پیش رفت کی راہ متعین کرنے کے قابل بنایا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان، جو مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مغربی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے، صدیوں سے مختلف تہذیبوں، ثقافتوں اور مذاہب کے امتزاج اور باہمی تعامل کا مرکز رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بین المذاہب ہم آہنگی، پُرامن بقائے باہمی، تنوع، تکثیریت اور مکالمے کی اقدار نہ صرف پاکستانی تہذیب کی نمایاں خصوصیات ہیں بلکہ ہماری خارجہ پالیسی کی رہنمائی بھی کرتی ہیں۔

مستقل مندوب نے کہا کہ اسی جذبے کے تحت پاکستان، فلپائن کے ساتھ مل کر “امن کے لیے بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمے، افہام و تفہیم اور تعاون کے فروغ” سے متعلق قرارداد کا معاون پیش کنندہ  ہے، جسے 20 مئی کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اتفاقِ رائے سے منظور کیا۔

انہوں نے کہا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والی اقوامِ متحدہ ہمیشہ اس حقیقت سے آگاہ رہی ہے کہ بین الاقوامی امن اور تہذیبوں کے درمیان مکالمہ ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔

انہوں نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ پاکستان ایک پُرعزم شراکت دار کے طور پر اقوامِ متحدہ اور تمام رکن ممالک کے ساتھ مل کر تہذیبوں، ثقافتوں اور مذاہب کے درمیان مکالمے کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا تاکہ عالمی امن، ہم آہنگی اور خوشحالی کے مشترکہ مقاصد کو آگے بڑھایا جا سکے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے اس موقع پر چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، جنرل اسمبلی کے صدر، اور اقوامِ متحدہ کے اتحادِ تہذیبوں کے اعلیٰ نمائندے جناب میگوئل اینخیل موراتینوس کے پیغامات کو بھی سراہا۔

انہوں نے جمہوریہ کولمبیا کے صدر، عزت مآب جناب گستاوو پیٹرو کے خطاب کا بھی خیرمقدم کرتے ہوئے ان کے خیالات کو قابلِ قدر قرار دیا۔