پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے باعث سفارتی گنجائش محدود ہونے کے باوجود امید کا دامن نہیں چھوڑا ، ترجمان دفترِ خارجہ

0

اسلام آباد،11جون (اے پی پی):پاکستان نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی اور سنگین صورتحال کے باعث سفارتی گنجائش محدود ہونے کے باوجود اس نے امید کا دامن نہیں چھوڑا اور وہ بدستور امن اور سفارتکاری کے راستے پر مثبت سوچ کے ساتھ گامزن ہے۔ ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے جمعرات کو یہاں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ہم مسلسل رابطے میں ہیں اور ایک حد تک امید کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور ایسی امید کسی بھی ثالث یا سہولت کار کے لئے ناگزیر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ان دشمنیوں کے باعث سفارتی گنجائش کم ہوئی ہے لیکن ہم مثبت انداز میں اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی اور خلیجی خطے میں جاری تعطل پر گہری تشویش رکھتا ہے اور تمام فریقوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ جنگ بندی کے حوالے سے طے پانے والی مفاہمت کا احترام کریں اور دشمنیوں کو مزید نہ بڑھائیں تاکہ مذاکرات اور سفارتکاری کے لئے جگہ پیدا ہوسکے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان اپنے اہم شراکت داروں کے ساتھ ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے اس ضمن میں پاکستانی قیادت اور دیگر ممالک کی قیادت کے درمیان حالیہ دوروں اور ٹیلیفونک رابطوں کا حوالہ دیا جن میں وزیرِ داخلہ کا تہران کا دورہ بھی شامل ہے جہاں وہ پاکستانی قیادت کا پیغام لے کر گئے تھے۔ ترجمان نے بدھ کی شب نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور ان کے ترک ہم منصب کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو سے بھی آگاہ کیا جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی بدلتی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور مذاکرات اور تحمل کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے امید ظاہر کی کہ فریقین کے درمیان مفاہمت خطے میں امن اور استحکام کے فروغ میں مددگار  ثابت ہوگی۔ آزاد جموں و کشمیر سے متعلق بھارتی بیانات کو مسترد کرتے ہوئے ترجمان نے ان ریمارکس کو مکمل طور پر رد کر دیا اور بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر تسلط جموں و کشمیر اور آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال کے درمیان واضح فرق اجاگر کیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر تسلط جموں و کشمیر کو غیر قانونی طور پر ضم کیا گیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے جہاں کے عوام کالے قوانین کے تحت منظم زیادتیوں کا شکار ہیں اور انہیں حقِ خودارادیت سمیت بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ اس کے برعکس آزاد جموں و کشمیر میں مسائل کا حل جمہوری اور آئینی فریم ورک کے اندر رہ کر کیا جا رہا ہے۔ بھارتی وزیرِ آبی وسائل کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کا پانی روکنے کی کوئی بھی کوشش انتہائی غیر ذمہ دارانہ اقدام ہوگا جو بین الاقوامی ذمہ داریوں اور سندھ طاس معاہدے کے منافی ہے۔ پاکستان کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسے کسی بھی اقدام کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جائے گا اور اسے جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی معیشت، اہم قومی مفادات اور اپنے 25 کروڑ عوام کی زندگیوں کے تحفظ کے لئے تمام ضروری اقدامات کرے گا، ہم بھارت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرے، اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا احترام کرے اور ایسے بیانات اور اقدامات سے گریز کرے جو خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ تقریباً 50 روز سے صومالی قزاقوں کے قبضے میں موجود خالی مال بردار جہاز پر سوار پاکستانی شہریوں کی رہائی کے لئے حکومت صومالی حکام اور جہاز کے مالک کے ساتھ رابطے میں ہے۔ انہوں نے حالیہ سفارتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نائب وزیرِ اعظم محمد اسحاق ڈار نے صومالی وزیرِ خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے جبکہ اس حوالے سے بین الوزارتی اجلاس بھی متوقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محمد اسحاق ڈار نے اپنے صومالی ہم منصب پر زور دیا کہ وہ نہ صرف دس پاکستانی عملے کے ارکان بلکہ دیگر مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے سات مزید عملے کے ارکان کے رہائشی اور انسانی حالات بہتر بنانے کے لئے اقدامات کریں۔

جنوبی افریقا میں افریقی اور ایشیائی شہریوں کے خلاف ہونے والے غیر ملکی مخالف حملوں کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پریٹوریا میں پاکستانی سفارتخانہ پاکستانی شہریوں کی سلامتی کے لئے سرگرم عمل ہے اور جنوبی افریقی حکام کے تعاون سے صورتحال سے نمٹا جا رہا ہے۔پاک-افغان سرحد کے ساتھ پاکستانی کارروائیوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ کارروائیاں مستند انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئیں اور ان میں بنوں حملے سے منسلک دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستانی شہریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ متحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی سفارتی مشنز اس معاملے میں سرگرم ہیں اور پیچھے رہ جانے والے اثاثوں کی واپسی کو یقینی بنایا جائے گا، پاکستان کے سفیر، قونصل جنرلز اور کمیونٹی ویلفیئر سیکشنز اس عمل میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔