توانائی اصلاحات کے مثبت نتائج: بجلی، تیل اور گیس کے شعبے میں 143 ارب روپے سے زائد کی تاریخی بچت

3

 اسلام آباد، 12 جون (اے پی پی ):وفاقی حکومت نےتوانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات کو ملکی معیشت کے استحکام اور توانائی کے نظام کی بہتری کے لیے اہم قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران بجلی، تیل اور گیس کے شعبوں میں کیے گئے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔مالی سال 26-2025 میں بجٹ میں مختص سبسڈی کے مقابلے میں143ارب روپے سے زائد کی بچت حاصل کی گئی۔جمعہ کوبجٹ تقریر سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ توانائی کسی بھی معیشت کی شہ رگ ہے۔

 گزشتہ ایک سال میں خطے میں بحران کے باوجود، پاکستان نے توانائی کے شعبے میں کئی محاذوں پر اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ گزشتہ دو برسوں میں حکومت نے توانائی کے شعبے میں ایسی  سٹرکچرل ریفامز شروع کی ہیں جو نا صرف موجودہ بحران سے نمٹے کے لیے، بلکہ آنے والے ممکنہ بحران کے لیے بھی پاکستان کو تیار کریں گیں۔ ہمارا مقصد توانائی کی خود کفالت، صارف کے لیے کم قیمتیں اور ایک ایسا نظام ہے جو ضمانتوں پر کم سے کم انحصار کرے اسی سوچ کے تحت میں اس معزز ایوان کےسامنے بجلی، تیل اور گیس کے میدان میں ہمارے اہم اقدامات کا ذکر کرنا چاہوں گا۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کا شعبہ اپنی تاریخ کے سب سے گہرے اصلاحاتی دور سے گزر رہا ہے،گزشتہ دو برسوں میں اس شعبے نے مالی نظم و ضبط اور کارکردگی میں بہتری کا مظاہرہ کیا جس کے نتیجے میں مالی سال 26-2025 میں بجٹ میں مختص سبسڈی کے مقابلے میں ایک سو تینتالیس (143) ارب روپے سے زائد کی بچت حاصل کی گئی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ کمی مستحق صارفین پر بوجھ ڈال کر نہیں بلکہ اصلاحات کے ذریعے حاصل کی گئی۔