اسلام آباد، 12 جون(اے پی پی):اسلام آباد، 12 جون(اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں مالی سال 2025-26 کے لیے 18 ہزار 771 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا۔ یہ موجودہ حکومت کا تیسرا بجٹ ہے۔
معاشی کارکردگی پر بریفنگ:وزیر خزانہ نے ایوان کو بتایا کہ رواں مالی سال لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی شرح نمو 6.1 فیصد جبکہ خدمات کے شعبے میں 4.1 فیصد رہی۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جو ایک نیا سنگ میل ہے۔ فی کس آمدنی 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہو گئی ہے۔
پالیسی ریٹ اور ذخائر:* محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پچھلے دو سالوں میں پالیسی ریٹ میں تاریخی کمی ہوئی۔ زرمبادلہ ذخائر تین سال قبل 4 ارب ڈالر تھے جو اب 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں اور تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ ترسیلات زر رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں 38 ارب ڈالر رہیں جو سال کے اختتام تک 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی۔
دفاع اور تنخواہیں:وزیر خزانہ نے کہا کہ ملکی دفاع حکومت کی اہم ترجیح ہے، اس مد میں 3 ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,071 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اور ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ کم سے کم ماہانہ تنخواہ میں 10 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔
بی آئی ایس پی اور علاقائی بجٹ:اگلے مالی سال بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 838 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو گزشتہ سال سے 17 فیصد زیادہ ہیں۔ آزاد کشمیر کے لیے 146 ارب، گلگت بلتستان کے لیے 88 ارب اور کے پی کے ضم شدہ اضلاع کے لیے 95 ارب روپے جاری اخراجات سے دیے جائیں گے۔
ٹیکس ریلیف:وزیر خزانہ نے تنخواہ دار طبقے کے لیے 4 سلیبس میں ریلیف کا اعلان کیا۔ 22 سے 32 لاکھ سالانہ آمدنی پر ٹیکس کی شرح 20 فیصد، 32 سے 41 لاکھ پر 25 فیصد، 41 سے 56 لاکھ پر 29 فیصد اور 56 سے 70 لاکھ پر 32 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ تنخواہ داروں پر عائد 9 فیصد سرچارج ختم کر دیا گیا ہے۔
50 کروڑ سے زائد آمدنی پر سپر ٹیکس 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ چھوٹے دکانداروں کے لیے فکسڈ ٹیکس سسٹم متعارف کرایا جائے گا جن کی سالانہ فروخت 20 کروڑ روپے سے کم ہے۔ وہ اپنی سالانہ سیلز کا ایک فیصد ٹیکس ادا کریں گے۔
پراپرٹی اور دیگر ٹیکس:جائیداد کی خریداری پر فائلرز کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد جبکہ نان فائلرز کے لیے فروخت پر 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ ایکسپورٹ پر ایڈوانس انکم ٹیکس 2 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کیا جا رہا ہے۔
گاڑیوں پر ٹیکس: امپورٹڈ گاڑیوں اور 2 سے 3 ہزار سی سی کی ایس یو ویز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد ہو گی۔ 2 کروڑ سے مہنگی الیکٹرک گاڑیوں پر بھی FED لاگو ہو گی۔
ترقیاتی بجٹ:قومی ترقیاتی پروگرام کے لیے 3,675 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ وفاقی PSDP ایک ہزار ارب جبکہ صوبوں کا ترقیاتی پروگرام 2,224 ارب روپے ہے۔ نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کے لیے 365 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ کراچی-چمن شاہراہ کے لیے 100 ارب اور ایم ایل ون کراچی تا روہڑی سیکشن کے لیے 25 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
بجٹ کا مجموعی خاکہ:- کل حجم: 18,771 ارب روپے- سود کی ادائیگی: 8,054 ارب روپے- دفاع: 3,000 ارب روپے- پینشن: 1,169 ارب روپے- سبسڈیز: 1,091 ارب روپے- PSDP: 1,050 ارب روپے- ایف بی آر ٹیکس ہدف: 15,264 ارب روپے۔
ایف بی آر کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی 10.3 فیصد تک پہنچ چکا ہے اور مالیاتی خسارہ 7.8 فیصد سے کم ہو کر 4 فیصد تک آ جائے گا۔ وزیر خزانہ نے سینیٹری پیڈز اور مانع حمل اشیاء پر ٹیکس ختم کرنے کا بھی اعلان کیا۔











