اسلام آباد، 14 جون(اے پی پی ): رکن قومی اسمبلی حاجی جمال شاہ کاکڑ نے مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مسائل کو اجاگر کیا۔
ایوان سے خطاب کرتے ہوئے حاجی جمال شاہ کاکڑ نے کہا کہ بجٹ میں پسماندہ علاقوں خصوصاً بلوچستان کی ترقی کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ انہوں نے زراعت، لائیو اسٹاک اور آبی وسائل کے شعبوں کے لیے مزید فنڈز مختص کرنے کا مطالبہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ-کراچی شاہراہ اور *چمن-گوادر روڈ جیسے اہم منصوبوں کی بروقت تکمیل سے صوبے میں معاشی سرگرمیاں تیز ہوں گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ حاجی جمال شاہ کاکڑ نے بلوچستان میں پانی کے بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈیمز اور سولر ٹیوب ویلز کے منصوبوں کے لیے فنڈز بڑھانے کی تجویز دی۔انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع اور بارڈر ایریاز کے عوام کے لیے تعلیم، صحت اور روزگار کی خصوصی اسکیمیں شروع کی جائیں۔ حاجی جمال شاہ کاکڑ نے ریکوڈک منصوبے سے مقامی آبادی کو فائدہ پہنچانے اور نوجوانوں کو تکنیکی تربیت دینے پر بھی زور دیا۔
ایم این اے نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی سے ہی ملک ترقی کرے گا۔ انہوں نے بجٹ کو متوازن قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس پر عملدرآمد سے عام آدمی کو ریلیف ملے گا۔











