میرپور میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رکن کے گھر چھاپہ، اسلحہ اور مشکوک سامان برآمد

3

میرپور،17 جون (اے پی پی ): قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ڈیڈیال میرپور میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے ممبر مہران کے گھر پر چھاپہ مار کر بھاری مقدار میں اسلحہ اور مشکوک سامان برآمد کر لیا۔

تلاشی کے دوران گھر سے ایک ڈرون، بارہ بور گن، پسٹل، گولیاں اور اسلام آباد پولیس سے چھینا گیا ہیلمٹ سمیت دیگر مشکوک اشیاء ملی ہیں۔

کالعدم تنظیم کے رکن مہران کے ملازم شاہد اسلم نے انکشاف کیا ہے کہ مہران نے دھرنے میں جانے سے پہلے سامان منتقل کرنے کے لیے دو ایمبولینسیں گھر منگوائی تھیں۔ ملازم کے مطابق ان ایمبولینسز کے ذریعے اسلحہ، گولیاں اور دیگر سامان خفیہ طور پر مظفر آباد منتقل کیا گیا۔

شاہد اسلم نے مزید بتایا کہ مہران اپنے ساتھ پانچ کلاشنکوفیں، دو بارہ بور بندوقیں اور بڑی تعداد میں گولیاں بھی لے کر گیا تھا۔ اس کے علاوہ پتھر، کانچ کی بوتلیں اور غلیلیں بھی دھرنے کے لیے استعمال کی گئیں۔

ملازم کے بیان کے مطابق مہران بھاری مقدار میں نقد رقم اور سرغنہ لطیف ڈار کی طرف سے دی گئی رقم بھی ساتھ لے کر گیا۔ 29 ستمبر کے لانگ مارچ میں چھینی گئی پولیس کی شیلنگ گنز بھی انہی ایمبولینسز کے ذریعے مظفر آباد پہنچائی گئیں۔

ملازم نے یہ بھی انکشاف کیا کہ دھرنے میں مہران 2 کلو چرس بھی ساتھ لے کر گیا تھا اور اس کے ساتھ 6 سے 7 اشتہاری ڈاکو اور منشیات مافیا سے تعلق رکھنے والے افراد بھی موجود تھے۔

ماہرین کے مطابق مہران کے گھر سے برآمد ہونے والا اسلحہ اور دیگر مشکوک سامان ثابت کرتا ہے کہ یہ سب کچھ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیم کی جانب سے عوامی حقوق کی آڑ میں اسلحے کے زور پر منظم بغاوت کی تیاریاں کی گئیں۔

ماہرین نے کہا کہ اسلام آباد پولیس کا ہیلمٹ برآمد ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور سرکاری سامان چھینا گیا۔