قومی اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کے لازمی اخراجات کی تفصیلات پیش، مجموعی حجم 40 ہزار ارب روپے سے زائد

3

اسلام آباد،20جون (اے پی پی ):30جون 2027 کو اختتام پذیر مالی سال 2026-27 کے مطالباتِ زر و تخصیصات میں شامل وفاقی مجموعی فنڈ سے غیر تصویبی (لازمی) اخراجات کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کر دی گئیں۔ مجموعی طور پر 40 ہزار 741 ارب 55 کروڑ روپے سے زائد کے لازمی اخراجات شامل ہیں۔

ہفتہ کو قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے لازمی اخراجات کی تفصیل پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ملکی قرضوں کی ادائیگی کے لیے 25 ہزار 992 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں، جبکہ غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کے لیے 5 ہزار 836 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد اور غیر ملکی قرضوں کے مصارف کی مد میں ایک ہزار 71 ارب 39 کروڑ روپے سے زائد رکھے گئے ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے بیرونی ترقیاتی قرضوں اور ایڈوانسز کے لیے 607 ارب 30 کروڑ روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں، جبکہ قلیل المدتی بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے 130 ارب 29 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق گرانٹس، اعانتوں اور متفرق اخراجات کے لیے 57 ارب روپے، وفاقی محتسب کے لیے 2 ارب روپے، انتخابات کے لیے 10 ارب روپے، سپریم کورٹ کے لیے 7 ارب 44 کروڑ روپے، وفاقی آئینی عدالت کے لیے 6 ارب 4 کروڑ روپے سے زائد، اسلام آباد ہائی کورٹ کے لیے 2 ارب 36 کروڑ روپے سے زائد اور آڈٹ کے لیے 9 ارب 82 کروڑ روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں۔

اسی طرح صدر کے عملہ، خانہ داری اور ذاتی الاؤنسز کے لیے ایک ارب 83 کروڑ 66 لاکھ روپے، صدر کے عملہ و خانہ داری کے دیگر اخراجات کے لیے 96 کروڑ روپے، سینیٹ کے لیے 6 ارب 45 کروڑ روپے، قومی اسمبلی کے لیے 7 ارب 96 کروڑ روپے اور کہن سالی الاؤنسز و پنشن کی مد میں 6 ارب 93 کروڑ روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں۔