انٹرایکٹو گول میز سیمینار میں ماہرین کا بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال میں پاکستان کے لیے متوازن حکمتِ عملی پر زور

9

اسلام آباد،20جون  (اے پی پی):فورم فار انفارمیشن گروپ آف سیکریٹریز (ایف آئی جی ایس ) کے زیرِ اہتمام  منعقدہ انٹرایکٹو گول میز سیمینار   کے مقررین نے  اس بات پر زور دیا ہے کہ تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی اور علاقائی صورتحال، طاقت کے توازن میں تبدیلی اور بین الاقوامی اتحادوں کی نئی صف بندی کے تناظر میں پاکستان کو ایک محتاط اور متوازن حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہیے۔ اس انٹرایکٹو گول میز سیمینار  کا عنوان ’’بدلتی ہوئی عالمی و علاقائی صورتحال اور پاکستان کو درپیش چیلنجز‘‘ تھا۔ اس فورم میں پالیسی ماہرین، سیاست دانوں، سابق سول سرونٹس اور سفارت کاروں نے شرکت کی اور ابھرتے ہوئے جغرافیائی سیاسی رجحانات، علاقائی سلامتی کے خدشات اور ان کے پاکستان پر اثرات پر تبادلۂ خیال کیا۔

سابق قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ نے کہا کہ حالیہ امریکا۔ایران تنازع نے بین الاقوامی نظام میں جاری تبدیلی کو نمایاں کیا ہے، جہاں دنیا یک قطبی نظام سے کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔  انہوں  نے کہا کہ بڑی ریاستوں کے درمیان طاقت کا بدلتا ہوا توازن عالمی سیاست کو نئی شکل دے رہا ہے اور پاکستان کے لیے مواقع اور چیلنجز دونوں پیدا کر رہا ہے۔پاکستان کے تذویراتی محلِ وقوع کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک ابھرتے ہوئے جغرافیائی سیاسی ماحول سے فائدہ اٹھانے کی بہتر پوزیشن میں ہے۔  انہوں  نے کہا  کہ  پاکستان اور ایران مل کر علاقائی استحکام اور اقتصادی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو چین اور روس سمیت ابھرتی ہوئی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو توازن اور دوراندیشی کے ساتھ آگے بڑھانا چاہیے اور بڑی طاقتوں کی رقابتوں میں الجھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے افغانستان میں امن اور استحکام کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے اسے پاکستان کے سلامتی مفادات کے لیے ناگزیر قرار دیا۔

ناصر خان  جنجوعہ نے کہا کہ پاکستان کو قرضوں کے جال سے نکلنے اور اپنی تذویراتی خودمختاری مضبوط بنانے کے لیے پائیدار اقتصادی اصلاحات اور زیادہ معاشی خود انحصاری کی ضرورت ہے۔

سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت خطے کے تمام ممالک کے لیے اہم اسباق رکھتی ہے اور اس بات کی متقاضی ہے کہ پالیسیاں قلیل مدتی مفادات کے بجائے طویل مدتی قومی مفادات کی بنیاد پر تشکیل دی جائیں۔انہوں نے پاکستان کو درپیش تین بڑے چیلنجز کی نشاندہی کی جن میں  امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی، افغانستان کی صورتحال اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی جانب سے پانی کو ایک تذویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوششیں شامل  ہیں ۔  انہوں نے کہا کہ  ایسی پیش رفت علاقائی سیاست میں ایک تشویشناک مثال قائم کر سکتی ہے۔فرحت اللہ بابر نے  مزید کہا کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پالیسی سازی میں ہم آہنگی، سول اور عسکری قیادت کے درمیان قریبی تعاون اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ایک متحدہ قومی حکمتِ عملی ضروری ہے۔

نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی ( نسٹ ) کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے کہا کہ معیشت اور سیاست پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ چکی ہیں اور جغرافیائی سیاسی عوامل دنیا بھر میں اقتصادی فیصلوں پر گہرا اثر ڈال رہے ہیں۔انہوں نے توانائی کو جدید معیشتوں کی ’’شہ رگ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ توانائی کی فراہمی میں رکاوٹیں مہنگائی اور مجموعی استحکام پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق حالیہ امریکا۔ایران کشیدگی نے عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کی اور دنیا بھر میں افراطِ زر کے دباؤ میں اضافہ کیا۔ توانائی درآمد کرنے والے ممالک، بشمول پاکستان ایسے جھٹکوں کے لیے زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی تذویراتی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ عالمی توانائی کی ترسیل میں مرکزی کردار کی وجہ سے یہ ایک اہم جغرافیائی سیاسی دباؤ کا مرکز بن چکی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران بتدریج معمول کی طرف لوٹ رہا ہے اور اگر علاقائی استحکام برقرار رہا تو وہ معاشی طور پر مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت ( ایم او یو) نے کشیدگی کم کرنے میں مدد دی، ایران کو درکار مہلت فراہم کی اور علاقائی استحکام کے فروغ میں پاکستان کے مثبت کردار کو اجاگر کرتے ہوئے اس کے مقام کو بھی مضبوط بنایا۔

قائدِ اعظم یونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر نواز جسپال نے کہا کہ دنیا موجودہ عالمی نظام میں ایک ’’بنیادی دراڑ‘‘ کا مشاہدہ کر رہی ہے، جو روایتی اصولوں کی کمزوری اور نئی طاقتوں کے ابھرنے سے ظاہر ہوتی ہے۔مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے اتحادوں اور تذویراتی حساب کتاب کے باعث ایک نئی علاقائی سلامتی کی ساخت تشکیل پا رہی ہے۔ انہوں نے  مزید  کہا کہ پابندیوں سمیت جیو اکنامک ذرائع کو ریاستوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے بڑھتے ہوئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلیاں نئی بلاک سیاست کو جنم دے رہی ہیں اور پاکستان جیسے ممالک کو مجبور کر رہی ہیں کہ وہ اپنی تذویراتی خودمختاری اور اقتصادی مفادات کے تحفظ کے ساتھ مختلف طاقتوں کے متضاد مفادات میں توازن قائم کریں۔اس سے قبل سابق سیکریٹری اطلاعات اور  ایف آئی جی ایس  کے چیئرمین سید انور محمود نے اپنے استقبالیہ کلمات میں کہا کہ فورم 2022 میں قائم کیا گیا تھا اور یہ قومی و بین الاقوامی اہمیت کے حامل موضوعات پر باقاعدگی سے مباحثوں کا انعقاد کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممتاز ماہرین کو ملک اور خطے کو درپیش موجودہ چیلنجز پر اپنی آراء اور تجربات سے آگاہ کرنے کے لیے مدعو کیا جاتا ہے۔سیمینار کا اختتام سوال و جواب کے ایک تعاملی سیشن پر ہوا، جس میں شرکاء نے علاقائی سلامتی، اقتصادی استحکام اور بدلتے ہوئے عالمی نظام میں پاکستان کے کردار پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔