اسلام آباد، 22 جون (اے پی پی): قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی نعیمہ کشور خان نے کہا ہے کہ ملک میں امن و امان، بچوں کے مستقبل، سائبر کرائم، جعلی ہاؤسنگ سوسائٹیز اور منشیات کے بڑھتے ہوئے مسائل پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے امن و امان کے لیے اقدامات جاری ہیں، تاہم ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی اور سیکیورٹی چیلنجز اب بھی موجود ہیں جن سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔
رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ ایوان میں موجود ارکان کے بچے بہتر تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم ہیں، لیکن عام شہریوں کے تعلیمی اداروں کو بھی اسی معیار اور تحفظ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اسلام آباد میں جعلی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے مسئلے کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی روک تھام کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ شہریوں کو فراڈ سے محفوظ رکھا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں پانی کا مسئلہ بھی سنگین شکل اختیار کر رہا ہے جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے، جبکہ ٹریفک جام اور شہری منصوبہ بندی کے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں۔ رکن اسمبلی نے سائبر کرائم اور انسانی سمگلنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان مختلف آن لائن فراڈز اور غیر قانونی نیٹ ورکس کا شکار ہو رہے ہیں، اس لیے وزارتِ داخلہ کو اس حوالے سے مزید فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم اور ان سے متعلق ویڈیوز کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بھی سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں منشیات کے استعمال میں اضافہ تشویشناک ہے جس پر قابو پانے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنانا ضروری ہے۔











