مفاہمتی یادداشتیں معاہدوں میں تبدیل ہوں گی، ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی، وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی مشترکہ نیوز کانفرنس

4

اسلام آباد،24جون(اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت معاہدے کی شکل اختیار کرے گی اور ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی، دنیا میں ایسے عناصر کی کمی نہیں جو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے ذریعے حاصل ہونے والی پیش رفت سے ناخوش ہیں، پاکستان اور ایران خطے کے امن کو سبوتاژ کرنے والوں کے خلاف آہنی دیوار ثابت ہوں گے ۔

 ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے مذاکراتی عمل میں پاکستان کے بہترین کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ امن، ترقی اور خوشحالی کے لئے پاکستان کے اہم کردار کے معترف ہیں،اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط پاکستان پر اعتماد کی بدولت ممکن ہوئے،چیلنجز پر قابو پاتے ہوئے خوشحال مشترکہ مستقبل کے لئے آگے بڑھنا ہے،خطے میں امن و سلامتی اور پائیدار ترقی علاقائی روابط کے فروغ اور تعمیری بات چیت سے ہی ممکن ہے۔

  منگل کو یہاں ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے دورۂ پاکستان کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے دوطرفہ اور وفود کی سطح پر ملاقات کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کیا۔ وزیر اعظم نے فارسی شعر کے ذریعے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دوست وہی ہوتا ہے جو مشکل وقت میں ہاتھ تھامے۔ صدر مسعود پزشکیان اور ان کے وفد کے دورۂ پاکستان پر بہت خوشی ہوئی، وزیراعظم نے صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ ہونے والی ملاقات کو نہایت نتیجہ خیز اور انتہائی خوشگوار ماحول میں ہونے والی گفتگو قرار دیا۔

 انہوں نے کہا کہ یہ ملاقات ایک خاندانی ملاپ کی مانند تھی، جہاں بھائی آپس میں مکمل کھلے دل اور عزم کے ساتھ بات کر رہے تھے کہ ہم اپنے برادرانہ تعلقات کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ صدر مسعود پزشکیان عظیم ملک کے عظیم رہنما ہیں، بطور ڈاکٹر بھی ایرانی صدر کی انسانیت کے لئے بھی بہت خدمات ہیں۔

وزیر اعظم نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بطور ثالث پاکستان نے امن عمل کے لئے خلوص نیت سے کاوشیں کیں۔ برگن سٹاک میں ہونے والے تکنیکی مذاکرات بھی بہت اہمیت کے حامل رہے۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت معاہدے کی شکل اختیار کرے گی اور ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔

وزیر اعظم نے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی دور اندیش قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ بحران کے دوران ایران کے عوام نے مثالی جرت اور اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے جنگ میں ہزاروں قیمتی جانوں کے ضیاع پر تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت بھی بہت بڑا نقصان ہے۔

 انہوں نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ ہفتے تہران کا دورہ کریں گے تاکہ ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کر سکیں اور ایرانی عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اعادہ کر سکیں۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ دنیا میں ایسے  عناصر کی کمی نہیں جو اس جنگ بندی سے شدید مایوس ہیں، جو دیرپا امن اور خوشحالی کا سبب بن سکتی ہے، اور جو غیر ضروری شکوک و شبہات اور انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صدر مسعود پزشکیان اور میں ان عناصر کے خلاف آہنی دیوار بن کر کھڑے رہنے کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہیں۔انہوں نے مشکل وقت میں ایران کی حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران ہمسائے ہی نہیں ہزاروں سال کی تہذیب سے بھی جڑے ہیں۔ ایران کی کامیابی کو اپنی کامیابی اور نقصان کو اپنا نقصان سمجھتے ہیں ۔انہوں نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی سمیت علاقائی رہنماؤں کی جانب سے امن کی کوششوں کی حمایت کو بھی سراہا۔

وزیر اعظم نے مذاکراتی عمل میں فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر کی انتھک محنت اور لگن کو سراہتے ہوئے کہا کہ نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی شاندار خدمات انجام دیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور ایران نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔

 وزیراعظم نے اپنی گفتگو کا اختتام پاکستان-ایران دوستی زندہ باد پر کیا۔ اس موقع پر ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے  پاکستان کو محض ہمسایہ ملک ہی نہیں بلکہ برادر اسلامی ملک قرار دیا جو ایران کے ساتھ گہرے تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں میں بندھا ہوا ہے۔انہوں نے علامہ محمد اقبال کے اشعار کا حوالہ دیتے ہوئے، جنہیں انہوں نے “اقبال لاہوری” کے نام سے یاد کیا ۔انہوں نےکہا کہ مسلم اُمہ کے اتحاد کا پیغام آج بھی اتنا ہی اہم اور مؤثر ہے جتنا ماضی میں تھا،پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی تعلقات منفرد نوعیت کے حامل ہیں، پاکستان اور ایران یک جان دو قالب ہیں،دونوں ممالک مشترکہ مستقبل اور منزل کے شراکت دار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان صرف ہمارا ہمسایہ ہی نہیں،  ہمارا بھائی اور عزیز دوست ہے، اسلام آباد اور تہران کے درمیان تعلقات قریبی اعتماد اور باہمی احترام پر مبنی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ماضی قریب میں ہونے والے واقعات نے دونوں ممالک کے قریبی رشتے کو نئی جہت دی، مذاکراتی عمل میں پاکستان نے بہترین کردار ادا کیا، امن، ترقی اور خوشحالی کے لئے پاکستان کے اہم کردار کے معترف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط پاکستان پر اعتماد کی بدولت ممکن ہوئے۔ انہوں نے شاندار استقبال اور بھرپور میزبانی پر پاکستانی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ دورۂ پاکستان کے لئے دعوت دینے پر اپنے بھائی شہباز شریف کے مشکور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک صرف ایک دوسرے کے پڑوسی  ہی نہیں بلکہ اپنی خواہشات، خدشات اور امیدوں میں ایک مشترکہ تقدیر کے شریک ہیں۔صدر پزشکیان نے خطے میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کے مخلصانہ اور ذمہ دارانہ کردار کو سراہا اور حالیہ تنازع کے دوران ایران کے ساتھ کھڑے ہونے پر وزیر اعظم محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، پاکستانی پارلیمان کے اراکین اور عوامِ پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ان کوششوں کے بغیر ہم آج یہاں موجود نہ ہوتے۔صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ان کی وزیر اعظم محمد شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے تعمیری ملاقاتیں ہوئیں،جن میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔

انہوں نے کہا کہ چیلنجز پر قابو پاتے ہوئے خوشحال مشترکہ مستقبل کے لئے آگے بڑھنا ہے خطے میں امن و سلامتی اور پائیدار ترقی علاقائی روابط کے فروغ اور تعمیری بات چیت سے ہی ممکن ہے۔ امن عمل کے لئے قطر، ترکیہ، سعودی عرب، مصر کی قیادت اور دوست ممالک کے شکر گزار ہیں،وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر نے ثالثی عمل میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جنگ کے آغاز سے مفاہمتی یادداشت تک ہر مرحلے میں پاکستان نے انتھک مخلصانہ کاوشیں کیں۔انہوں نے کہا کہ کہ خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی صرف باہمی احترام، مکالمے اور افہام و تفہیم کے ذریعے ہی ممکن ہے، جبکہ دوستی اور تعاون کی بنیاد پر ایک مضبوط علاقائی سلامتی کے نظام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔دونوں رہنماؤں نے تجارت، اقتصادی تعاون اور عوامی روابط کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کی مضبوط سیاسی قیادت پاکستان اور ایران کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی۔سوال و جواب کے سیشن کے دوران دونوں رہنماؤں نے ان خبروں کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا جن میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت  کے تحت ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔

صدر پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران کی میزائل صلاحیت صرف قومی دفاع کے لیے ہے اور یہ کبھی بھی مذاکرات کا حصہ نہیں رہی۔وزیر اعظم شہباز

شریف نے بھی وضاحت کی کہ بیلسٹک میزائل نہ تو زیر بحث آئے اور نہ ہی انہیں معاہدے میں شامل کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ میں بلا خوفِ تردید یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بیلسٹک میزائل کبھی بھی بات چیت کا موضوع نہیں رہے۔ ان کا مفاہمتی یادداشت میں کوئی ذکر نہیں اور نہ ہی وہ مذاکرات کا حصہ تھے۔

وزیر اعظم نے امن عمل کو سبوتاژ کرنے کے لیے پھیلائی جانے والی غلط معلومات سے خبردار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور ایران خطے کے امن و استحکام اور امن اقدام کی کامیابی کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔