حکومت پاکستان اور حکومتِ جمہوریہ اٹلی کے درمیان 20 ملین یورو (تقریباً 6.3 ارب پاکستانی روپے) کے رعایتی قرضے کے معاہدے پر دستخط

5

اسلام آباد، 29 جون (اے پی پی ) : حکومت پاکستان اور حکومتِ جمہوریہ اٹلی کے درمیان 20 ملین یورو (تقریباً 6.3 ارب پاکستانی روپے) کے رعایتی قرضے کے معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں۔ اس معاہدے کا مقصد پاکستان کے قومی تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت (ٹی وی ای ٹی) اصلاحاتی پروگرام کے تحت “زرعی شعبے میں پیشہ ورانہ استعداد کار کی ترقی اور توسیعی خدمات” کے منصوبے کی مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔

حکومتِ پاکستان کی جانب سے سیکریٹری وزارتِ اقتصادی امور محمد حمیر کریم نے جبکہ حکومتِ اٹلی کی جانب سے پاکستان میں اٹلی کی سفیر، ماریلینا آرمیلین نے معاہدے پر دستخط کیے۔ اس موقع پر اطالوی ترقیاتی تعاون ایجنسی، وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور صوبائی محکمہ جات کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

اس منصوبے کا مقصد زرعی شعبے پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے پاکستان کے تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ اس کے تحت پیشہ ورانہ مہارتوں میں اضافہ، تکنیکی اسناد کے نظام کو بہتر بنانا اور زرعی ویلیو چینز میں جدت کو فروغ دینا شامل ہے۔ یہ منصوبہ جدید، مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ تربیتی پروگراموں کے ذریعے کسانوں، زرعی توسیعی عملے، تربیت کاروں اور دیگر متعلقہ فریقین کی استعداد کار میں اضافہ کرے گا، جس سے زرعی پیداوار، پائیدار زرعی طریقوں اور عوام کے معاشی حالات میں بہتری آئے گی۔

پروگرام کے تحت اعلیٰ قدر کی حامل زرعی فصلوں کی ترقی اور زرعی و غذائی ویلیو چینز کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ باغبانی کی پیداوار، پراسیسنگ اور مارکیٹنگ سے وابستہ افراد کے لیے خصوصی تربیتی مراکز قائم کیے جائیں گے تاکہ مصنوعات میں تنوع اور ویلیو ایڈیشن کو فروغ دیا جا سکے۔ منصوبے کے تحت زیتون، پستہ، کھجور، مشروم، چیری، انگور، آڑو اور بادام جیسی فصلوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی، جہاں جدید اطالوی زرعی مہارت اور پاکستان کی وسیع زرعی استعداد سے بھرپور استفادہ کیا جائے گا۔

42 ماہ پر مشتمل اس پروگرام کے دوران 720 تربیتی کورسز منعقد کیے جائیں گے، جن سے 18,398 افراد مستفید ہوں گے۔ ان میں کسان، خواتین، نوجوان اور تربیت کار شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ 11 معیاری تربیتی نصاب بھی تیار کیے جائیں گے۔

منصوبے کے تحت بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے 12 ماڈل باغات اور نرسریاں، 8 ماحول دوست (ایکو) دیہات جو موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ہوں گے، 5 زرعی و غذائی پراسیسنگ یونٹس اور 2 قومی مراکزِ امتیاز (نیشنل سنٹرز فار ایکسی لینس) قائم کیے جائیں گے۔ یہ مراکز بالترتیب سرگودھا (پنجاب) میں مالٹے و کینو (سٹریس) اور تربت (بلوچستان) میں کھجور کی پیداوار کے لیے قائم کیے جائیں گے۔

اس منصوبے پر عملدرآمد پاکستان آئل سیڈ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے صوبائی محکمہ زراعت کے تعاون سے کیا جائے گا۔ توقع ہے کہ اس کے نتیجے میں دیہی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا، بعد از برداشت نقصانات میں کمی آئے گی، کسانوں کی تنظیموں اور کوآپریٹوز کو تقویت ملے گی اور پاکستان کے زرعی شعبے کی مسابقتی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئے گی۔

اس معاہدے پر دستخط پاکستان اور اٹلی کے درمیان مضبوط اور دیرینہ ترقیاتی شراکت داری کا مظہر ہیں، جو پائیدار زرعی ترقی، مہارتوں کے فروغ اور مضبوط دوطرفہ تعاون کے ذریعے جامع معاشی ترقی کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔