سندھ طاس معاہدے میں یکطرفہ تبدیلی یا معطلی ممکن نہیں، پانی کے حق کے تحفظ کے لئے ہر سطح پر اقدامات کریں گے، عطاء اللہ تارڑ

4

اسلام آباد، 30 جون (اے پی پی) : وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی شہ رگ ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ ترمیم، معطلی یا منسوخی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوششیں ناکام رہیں اور اسے عالمی فورمز پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔

جناح کنونشن سینٹر میں سندھ طاس معاہدے پر بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لئے پانی زندگی کا مسئلہ ہے اور دریائے سندھ کے پانی پر پاکستانی عوام کا ناقابل تنسیخ حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر سطح پر اپنے پانی کے حق کے تحفظ کے لئے اقدامات جاری رکھے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ باہمی رضامندی سے طے پایا تھا، اس لئے اس میں کوئی بھی تبدیلی بھی صرف باہمی رضامندی سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا یا بین الاقوامی معاہدوں کو یکطرفہ طور پر معطل کرنا علاقائی امن اور بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ پرامن مکالمے اور معاہدے پر دیانتداری سے عمل درآمد کا حامی رہا ہے، تاہم قومی قیادت پاکستانی عوام کے پانی کے حق کے تحفظ کے لئے ہر ممکن اقدام کرے گی۔ انہوں نے ماحولیاتی تبدیلی اور پانی کی قلت کے تناظر میں سندھ طاس معاہدے کے تحفظ کو مزید اہم قرار دیا۔