ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی چوری روکنے کے لیے مؤثر قانون سازی کی ضرورت، سینیٹ ذیلی کمیٹی

3

اسلام آباد،01 جولائی (اے پی پی): سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں چیئرپرسن سینیٹر سعدیہ عباسی کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی چوری اور ملک بھر میں بلا تعطل ٹیلی کمیونیکیشن خدمات کی فراہمی سے متعلق ذیلی کمیٹی کی سابقہ سفارشات پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔

حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ تمام نجی ٹیلی کام آپریٹرز پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (تنظیم نو) ایکٹ 1996 کے تحت ریگولیٹ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چوری کے زیادہ تر واقعات امن و امان کی خراب صورتحال والے علاقوں میں پیش آتے ہیں جبکہ آپریٹرز کے حقوق اور ذمہ داریاں لائسنس کی شرائط میں واضح طور پر درج ہیں۔

اجلاس میں تجویز دی گئی کہ ٹیلی کام کمپنیوں کو اپنے انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے مزید مؤثر حفاظتی اقدامات کا پابند بنایا جائے اور حساس علاقوں میں پولیس گشت بڑھائی جائے۔ سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی بار بار چوری ایک سنگین مسئلہ ہے جس کے لیے مؤثر قانون سازی کی ضرورت ہے۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ان چوریوں کا مالی بوجھ نجی ٹیلی کام کمپنیوں پر پڑتا ہے جبکہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے اب تک اس حوالے سے قانون سازی کی کوئی تجویز پیش نہیں کی۔ حکام نے بتایا کہ اگرچہ چوری موجودہ قوانین کے تحت قابل سزا جرم ہے تاہم قانونی کارروائی کے طویل عمل اور دور دراز علاقوں میں مقامی دفاتر نہ ہونے کے باعث کمپنیاں اکثر مقدمات درج کرانے سے گریز کرتی ہیں۔

وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے رکن برائے قانونی امور نے موجودہ قانونی نظام پر بریفنگ دی۔ چیئرپرسن نے وزارت کو ہدایت کی کہ ٹیلی کام انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے دیگر ممالک کے کامیاب قانونی ماڈلز کا جائزہ لیا جائے۔

پی ٹی اے حکام نے بتایا کہ تمام ٹیلی کام آپریٹرز کو ہر چوری کے واقعے پر مقدمہ درج کرانے کی ہدایت کی گئی ہے تاہم لائسنس کی شرائط میں ترمیم ایک طویل ریگولیٹری عمل ہے۔ چیئرپرسن نے سفارش کی کہ وزارت صوبائی حکومتوں سے رابطہ کر کے ٹیلی کام کمپنیوں کو انفراسٹرکچر کے تحفظ میں معاونت فراہم کرے۔

اجلاس میں ٹیلی کام ٹاورز کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ تمام متعلقہ اداروں کو اعتماد میں لے کر ایک مشترکہ کمیٹی قائم کی گئی ہے جو ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو مسلسل بجلی کی فراہمی کے لیے جامع پالیسی تیار کرے گی۔

ڈائریکٹر جنرل انفورسمنٹ نے بتایا کہ مختلف کمپنیوں میں چوری کے واقعات کی شرح مختلف ہے۔ رپورٹ کے مطابق لکی مروت، بنوں، تربت اور قلعہ عبداللہ میں یوفون اور ٹیلی نار نے کسی چوری کی اطلاع نہیں دی جبکہ جاز اور زونگ نے بعض واقعات رپورٹ کیے ہیں۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے مختلف کمپنیوں کی رپورٹنگ میں فرق پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ایک ہی علاقوں میں کام کرنے کے باوجود بعض کمپنیوں نے چوری کے واقعات کیوں رپورٹ نہیں کیے۔ چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ ان علاقوں میں روزانہ 10 سے 12 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے جس سے ٹیلی کام انفراسٹرکچر زیادہ غیر محفوظ ہو جاتا ہے۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ جب تک ان علاقوں میں امن و امان کی صورتحال بہتر نہیں ہوتی اس وقت تک مستحکم اور قابل اعتماد ٹیلی کمیونیکیشن خدمات کی فراہمی ایک بڑا چیلنج رہے گی۔