اورلینڈو، 5 جولائی ( اے پی پی): وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات و ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن احسن اقبال نے اپنے دورۂ امریکہ کے دوران ایسوسی ایشن آف فزیشنز آف پاکستانی ڈیسنٹ آف نارتھ امریکہ (APPNA) کے 49ویں سالانہ کنونشن میں شرکت کی اور پاکستانی نژاد امریکی کاروباری شخصیات، سرمایہ کاروں اور پیشہ ور افراد سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ اس موقع پر انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں پر زور دیا کہ وہ پاکستان کی پائیدار ترقی، معاشی استحکام اور قومی تعمیر کے سفر میں فعال شراکت دار بنیں۔
ایپنا کے سالانہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت “اڑان پاکستان” کے وژن کے تحت انسانی وسائل کی ترقی کو قومی منصوبہ بندی کا مرکزی ستون بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا روشن مستقبل معیاری تعلیم، بہتر صحت، آبادی کے مؤثر انتظام، جدید ٹیکنالوجی، جدت اور تحقیق میں سرمایہ کاری سے وابستہ ہے، جبکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ماہرین اس قومی سفر میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
احسن اقبال نے اوورسیز پاکستانی ڈاکٹروں کو پاکستان کی صحت کے شعبے میں اپنی مہارت فراہم کرنے کی دعوت دیتے ہوئے ٹیلی میڈیسن بیک اپ ماڈل تجویز کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساٹھ اضلاع میں ہر ضلع کے لیے امریکہ میں مقیم دس ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل پینل تشکیل دیا جائے، جو دور دراز علاقوں میں خدمات انجام دینے والے نوجوان ڈاکٹروں کو جدید ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے طبی مشاورت فراہم کرے گا۔ ان کے مطابق اس اقدام سے علم اور تجربے کی منتقلی، طبی سہولیات کے معیار میں بہتری اور دورافتادہ علاقوں میں خصوصی طبی خدمات کی فراہمی ممکن ہوگی۔
وفاقی وزیر نے مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اوورسیز پاکستانی ماہرینِ طب پر زور دیا کہ وہ پاکستان میں اے آئی پر مبنی صحت کی سہولیات، ڈیجیٹل ہیلتھ پلیٹ فارمز اور جدید طبی ٹیکنالوجی کے فروغ میں حکومت کا ساتھ دیں تاکہ صحت کا نظام جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ہیپاٹائٹس سی، ذیابیطس، تپ دق، پولیو، آبادی میں تیز رفتار اضافہ اور بچوں میں غذائی کمی جیسے بڑے انسانی ترقی کے چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر مربوط حکمتِ عملی اور عالمی مہارت سے استفادہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نیشنل پاپولیشن کونسل کے قیام کی منظوری دے دی ہے، جس کی سربراہی وزیراعظم کریں گے جبکہ تمام وزرائے اعلیٰ اس کے رکن ہوں گے تاکہ آبادی سے متعلق امور پر قومی سطح پر مربوط اقدامات کیے جا سکیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے پروگرام اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں جاری ہیں، جبکہ ذیابیطس سے بچاؤ اور آگاہی کے لیے جلد ملک گیر مہم شروع کی جائے گی۔
سوال و جواب کے سیشن میں احسن اقبال نے کہا کہ جمہوری معاشروں میں اختلافِ رائے اور پُرامن سیاسی اظہار ہر شہری کا آئینی حق ہے، تاہم سیاسی اختلافات کو ریاستی اداروں اور پاکستان کے عالمی تشخص کو نقصان پہنچانے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست اور ریاست کو الگ رکھا جانا چاہیے کیونکہ کوئی بھی جمہوری ملک اپنے قومی اداروں کو سیاسی مفادات کی نذر نہیں ہونے دیتا۔ انہوں نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں پر زور دیا کہ وہ قومی خودمختاری اور پاکستان کی عالمی ساکھ کے تحفظ کو ہمیشہ مقدم رکھیں۔
بعد ازاں اورلینڈو میں پاکستانی نژاد امریکی کاروباری شخصیات سے ملاقاتوں کے دوران احسن اقبال نے اوورسیز سرمایہ کاروں، صنعت کاروں اور پیشہ ور افراد کو پاکستان میں برآمدات، ٹیکنالوجی شراکت داری اور پیداواری سرمایہ کاری کے فروغ میں بھرپور کردار ادا کرنے کی دعوت دی۔
انہوں نے کہا کہ اڑان پاکستان کے تحت حکومت برآمدات پر مبنی، جدت پر استوار اور علم پر مبنی معیشت کی تعمیر کے لیے کوشاں ہے، جس کا مقصد ملکی مسابقت میں اضافہ، سرمایہ کاری کا فروغ، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور پائیدار معاشی ترقی کو تیز کرنا ہے۔ انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں پر زور دیا کہ وہ اپنی عالمی روابط کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستانی مصنوعات کے لیے نئی منڈیوں تک رسائی، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سرمایہ کاری کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ اب پاکستان کا اگلا بڑا ہدف “معرکۂ معیشت” ہے، جس میں برآمدات، صنعتی مسابقت، جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے ذریعے معاشی قوت حاصل کرنا ہوگی۔
وفاقی وزیر نے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے شعبوں میں موجود مواقع پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے پاس وہ مہارت، تجربہ اور عالمی روابط موجود ہیں جو پاکستان کو ایک جدید، مسابقتی، اختراعی اور پائیدار معیشت بنانے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اپنے دورے کے اختتام پر احسن اقبال نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت قانون کی حکمرانی، پالیسیوں کے تسلسل، سرمایہ کاری کے سازگار ماحول اور اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ مضبوط شراکت داری کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی قوم کا قیمتی اثاثہ ہیں اور حکومت انہیں اڑان پاکستان کے وژن کو حقیقت کا روپ دینے اور ایک خوشحال، مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقتی پاکستان کی تعمیر میں بھرپور کردار ادا کرنے کی دعوت دیتی ہے۔











