کسٹمز اصلاحات کے ذریعے بحری تجارت، بندرگاہوں کی استعداد اور درآمدی عمل کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے: ممبر کسٹمز شکیل شاہ

6

اسلام آباد،9جولائی(اے پی پی): فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ممبر کسٹمز سید شکیل شاہ نے کہا ہے کہ کسٹمز نظام میں اصلاحات کے ذریعے بحری تجارت کو آسان بنانے، بندرگاہوں کی استعداد بہتر بنانے اور درآمدی عمل کو مزید مؤثر بنانے کے اقدامات جاری ہیں۔

آج وزیراعظم کی ٹاسک فورس برائے میری ٹائم افیئرز کے چیئرمین افتخار احمد راؤ اور سیکرٹری میری ٹائم افیئرز کے ہمراہ مشترکہ پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے سید شکیل شاہ نے کہا کہ بحری تجارت اور بندرگاہوں سے متعلق مختلف شعبوں میں اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، جن کے نتیجے میں سامان کی کلیئرنس کے عمل میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بندرگاہوں اور آف ڈاک ٹرمینلز کی استعداد میں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ درآمدی و برآمدی سرگرمیوں کو مزید سہولت فراہم کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ بندرگاہوں پر کسٹمز ڈیوٹی کی وصولی کے لیے فیس لیس نظام نافذ کیا گیا ہے، جس سے محصولات کی وصولی اور کلیئرنس کے عمل میں بہتری آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں پر بڑے بحری جہازوں کو ایندھن کی فراہمی کے لیے ضروری قواعد و ضوابط بھی نافذ کیے جا چکے ہیں، جس سے بحری تجارت اور بندرگاہی سرگرمیوں کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔

سید شکیل شاہ نے کہا کہ بحری صنعت کے فروغ کے لیے ویسلز اور شپ بلڈنگ سے متعلق ٹیکس مراعات فراہم کی گئی ہیں، جبکہ انفورسمنٹ کے نظام کو بھی جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں اضاخیل ڈرائی پورٹ پر فیس لیس نظام نافذ کیا گیا ہے اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے غیرقانونی تجارت اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انفورسمنٹ اقدامات کے نتیجے میں محصولات کی وصولی میں بہتری آئی ہے اور مختلف اشیاء کی قانونی درآمدات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ممبر کسٹمز نے کہا کہ فریٹ فارورڈرز اور کسٹمز ہاؤس کلیئرنگ ایجنٹس کی رجسٹریشن کے نظام کو جدید بنایا جا رہا ہے تاکہ شعبے میں شفافیت اور پیشہ ورانہ معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ درآمد کنندگان کی سہولت کے لیے کارگو کی آمد سے قبل درآمدی ڈیکلریشن جمع کرانے کی سہولت فراہم کی گئی ہے، جس سے سامان کی بروقت کلیئرنس ممکن ہو رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسٹمز آپریشنز، پاکستان سنگل ونڈو، ڈیجیٹل ادائیگیوں، کنٹینرز کی جدید اسکیننگ اور کارگو ٹریکنگ کے نظام کو بھی مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے تاکہ بین الاقوامی تجارت کو سہل اور شفاف بنایا جا سکے۔