اسلام آباد، 14 جولائی (اے پی پی) : کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں نے راولاکوٹ میں منگل کی صبح متیال میرہ بس ٹرمینل کے قریب شہری آبادی پر فائرنگ کی۔ مقصد عوام کو اشتعال دلانا اور دھرنے میں جان پیدا کرنا بتایا گیا۔
بزدلانہ کارروائی کے بعد پولیس نے امن و امان کی صورتحال کنٹرول کرنے کے لیے پیش قدمی کی تو مسلح جتھوں نے پولیس کو آٹومیٹک ہتھیاروں اور گولہ بارود سے نشانہ بنایا،پولیس کی مدد کے لیے تعینات رینجرز کی نفری بھی موقع پر پہنچ گئی۔
کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر جدید ہتھیاروں سے سیدھی فائرنگ کے ساتھ خودساختہ دھماکہ خیز مواد بھی استعمال کیا۔ اس فائرنگ سے رینجرز کا ایک اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوا۔
ماہرین کے مطابق شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی منظم انداز میں ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کے ایجنڈے پر کاربند ہے۔ اس واقعے نے کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی نام نہاد پرامن جدوجہد کا اصل چہرہ آشکار کر دیا ہے۔ جدید ہتھیاروں کا استعمال اور بارود کی تیاری کو ماہرین کھلی غنڈہ گردی اور دہشتگردی قرار دے رہے ہیں جو عام عوام کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں امن و امان کی بحالی اور ریاستی رٹ قائم کرنے کے لیے کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں کے خلاف فیصلہ کن سیکیورٹی آپریشن ناگزیر ہو چکا ہے۔











