کاروبار میں آسانی کے اقدامات میں تیزی لائی جائے،وزیراعظم شہباز شریف

4

اسلام آباد، 17 جولائی (اے پی پی): وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت کاروبار میں آسانی کے لیے اقدامات پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں کاروباری ماحول کو مزید سازگار بنانے کے لیے جاری اصلاحات اور آئندہ کے لائحہ عمل کا جائزہ لیا گیا۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ کاروبار میں آسانی کے لیے حکومت کے پالیسی اقدامات اور آسان کاروبار ایکٹ 2025 کے نفاذ میں تیزی لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار میں آسانی کے اقدامات کی افادیت اور نفاذ کی جانچ کے لیے بین الاقوامی اداروں سے آزادانہ توثیق کو یقینی بنایا جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں مقامی اور بیرونی سرمایہ کاری کی وسیع استعداد سے بھرپور فائدہ اٹھانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کاروبار میں آسانی کے لیے کیے گئے پالیسی اقدامات کے نفاذ پر جامع رپورٹ مرتب کرکے جلد پیش کی جائے۔

اجلاس میں وزیراعظم نے کاروبار میں آسانی کے لیے قانون سازی اور پالیسی سازی پر وزارت قانون و انصاف، خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل، سرمایہ کاری بورڈ، وزارت تجارت، وزارت صنعت اور دیگر متعلقہ اداروں کی کاوشوں کو سراہا۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ملک میں کاروبار میں آسانی کے لیے مختلف ضوابط، کاغذی کارروائیوں اور منظوریوں کو کم کرنے کے حوالے سے 558 اصلاحات پر کام مکمل ہو چکا ہے،جن میں سے 71 پالیسی اقدامات نافذ کیے جا چکے ہیں جبکہ 272 کے نفاذ پر تیزی سے کام جاری ہے۔ بتایا گیا کہ ان اصلاحات کا نفاذ سات مراحل میں مختلف شعبوں میں کیا جا رہا ہے۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں کاروباری برادری کو مختلف ضوابط اور شرائط پر آنے والے اخراجات میں تقریباً 468.7 ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ غیر ضروری اور پیچیدہ کاغذی کارروائیوں اور ضوابط کے خاتمے سے برآمدات اور براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا جبکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ متعلقہ اداروں کے افسران کی کارکردگی کے جائزے میں کاروبار میں آسانی کے اقدامات کے نفاذ اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے روزگار کے مواقع کو کلیدی اہمیت دی جائے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، قیصر احمد شیخ، جام کمال خان، احد خان چیمہ، سید مصطفیٰ کمال، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، مشیر وزیراعظم محمد علی، معاون خصوصی ہارون اختر، اٹارنی جنرل منصور اعوان اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہرین نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔