حکومت ملک میں سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور برآمدات کے فروغ کے لیے جامع اصلاحات پر عمل پیرا ہے ، ہارون اختر خان

6

اسلام آباد، 28 جولائی (اے پی پی ): وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور برآمدات کے فروغ کے لیے جامع اصلاحات پر عمل پیرا ہے  ، صنعتی پالیسی، بیٹری انرجی سٹوریج، موبائل فون مینوفیکچرنگ اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) کی معاونت کے لیے متعدد اقدامات جلد متعارف کرائے جا رہے ہیں،  حکومت  پاکستان میں سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ متعارف کرانے کے لیے بھی عملی اقدامات کا آغاز کر چکی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔  ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان اس وقت معاشی استحکام کی جانب گامزن ہے اور موجودہ حالات ملکی صنعت اور سرمایہ کاری کے لیے ایک اہم موقع فراہم کر رہے ہیں، حکومت ریگولیٹری اصلاحات کے ذریعے کاروباری ماحول کو آسان بنا رہی ہے اور ان اصلاحات کے نتائج جلد سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ صنعتی پالیسی آئندہ ماہ متعارف کرائی جائے گی جس میں صنعتوں کو مستقبل کی سمت، ٹیکس مراعات اور سرمایہ کاری کے لیے واضح روڈ میپ فراہم کیا جائے گا،نئی ٹیرف پالیسی کے تحت آئندہ تین برسوں میں زیادہ سے زیادہ ٹیرف ریٹ کو عالمی سطح پر مسابقتی بنایا جائے گا تاکہ صنعتوں کو خام مال کم لاگت پر دستیاب ہو اور برآمدات میں اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔انہوں  نے کہا  کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں حالیہ  بحران کے دوران دانشمندانہ قیادت اور موثر سفارت کاری کے ذریعے نہ صرف خود کو تنازعات سے محفوظ رکھا بلکہ خطے میں امن کے قیام کے لیے بھی اہم کردار ادا کیا  جس کے باعث عالمی سطح پر پاکستان کا وقار اور ساکھ مزید بلند ہوئی ہے۔ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے خود کو ایک امن پسند ملک قرار دیتا آیا ہے اور حالیہ حالات میں اس موقف کو عملی طور پر دنیا کے سامنے ثابت بھی کیا ہے جبکہ عالمی برادری نے بھی دنیا کو ایٹمی جنگ سے بچانے میں پاکستان کے  کردار کا اعتراف کیا ہے۔معاون خصوصی نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات نے پاکستان کو ایک منفرد موقع فراہم کیا ہے اور اب ضرورت اس امر کی ہے کہ  معاشی استحکام کو مزید مضبوط بنایا جائے، یہی وقت ہے کہ پاکستان صنعتی ترقی، سرمایہ کاری اور برآمدات کے ذریعے اپنی معاشی بنیادوں کو مستحکم کرے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف  نجی شعبے، صنعت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں اور ملکی ترقی کے لیے مسلسل محنت کر رہے ہیں، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی کوششوں کے باعث بڑی تعداد میں چینی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری اور مینوفیکچرنگ کے لیے دلچسپی ظاہر کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک سال پہلے پاکستان کو چینی کمپنیوں کو سرمایہ کاری پر آمادہ کرنا پڑتا تھا  لیکن اب صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے اور چینی کمپنیاں خود پاکستان آنے کی خواہش مند ہیں،یہ تبدیلی ملکی قیادت کی پالیسیوں اور سفارتی کامیابیوں کا نتیجہ ہے۔معاون خصوصی نے کہا کہ حکومت کاروباری ماحول بہتر بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر ریگولیٹری اصلاحات متعارف کرا رہی ہے، مختلف  غیر ضروری قوانین اور پیچیدہ ضابطہ کار کا خاتمہ کیا جا رہا ہے  تاکہ صنعتکاروں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔انہوں نے اعلان کیا کہ نئی صنعتی پالیسی آئندہ ماہ اگست میں متعارف کرائی جائے گی  جبکہ ٹیرف پالیسی کے تحت خام مال پر ڈیوٹیز کو زیادہ مسابقتی بنایا جا رہا ہے تاکہ پاکستانی صنعت عالمی منڈی میں موثر انداز میں مقابلہ کر سکے۔ہارون اختر خان نے کہا کہ صنعتوں کے لیے بجلی کی قیمت گزشتہ سال 48 روپے فی یونٹ سے کم ہو کر 34 روپے فی یونٹ تک آ چکی ہے اور حکومت اس میں مزید کمی کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور جلد نئی آٹو پالیسی متعارف کرائی جائے گی جس میں الیکٹرک وہیکلز کے لیے خصوصی مراعات شامل ہوں گی، چارجنگ سٹیشنز، بیٹری سوئپنگ سسٹم اور متعلقہ انفراسٹرکچر بھی حکومتی منصوبے کا حصہ ہیں۔معاون خصوصی نے کہا کہ پاکستان میں شمسی توانائی کے شعبے میں انقلاب آ چکا ہے  جس کی بنیادی وجہ چین سے نسبتاً کم قیمت پر سولر فوٹو وولٹائک سیلز کی دستیابی ہے، اب حکومت نئی پالیسی کے تحت سولر پلیٹس کی مقامی تیاری کو فروغ دے گی تاکہ اس شعبے میں بھی صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کو مزید وسعت مل سکے۔انہوں نے کہا کہ حکومت بیٹری انرجی سٹوریج سسٹم کی مقامی صنعت کے فروغ کے لیے پالیسی متعارف کرانے جا رہی ہے،اس مقصد کے لیے تقریباً ڈیڑھ سو مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) اور معاہدوں پر پیش رفت جاری ہے  جبکہ بیٹری سیلز بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ بھی تعاون کیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل قریب میں یہ صنعت پاکستان میں قائم ہو سکے۔ہارون اختر خان نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں پاکستان میں موبائل فونز کی اسمبلنگ کے شعبے میں نمایاں ترقی ہوئی ہے اور اس وقت ملک میں استعمال ہونے والے تقریباً 95 فیصد موبائل فون مقامی سطح پر اسمبل کیے جا رہے ہیں تاہم  حکومت آئندہ ایک ماہ کے اندر نئی پالیسی متعارف کرائے گی  جس کے تحت موبائل فونز کے 50 سے 60 فیصد پرزہ جات بھی پاکستان میں تیار کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی توجہ نجی شعبے، زراعت اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کی ترقی پر مرکوز ہے، وزیراعظم خود ایس ایم ای سیکٹر سے متعلق اجلاسوں کی صدارت کرتے ہیں اور اس شعبے کو دوبارہ فعال اور موثر بنانے کے لیے اصلاحات کی جا رہی ہیں۔معاون خصوصی نے بتایا کہ حکومت بینکوں کے ذریعے ایس ایم ایز کو کولیٹرل فری فنانسنگ، انوائس کی بنیاد پر قرضوں اور ورکنگ کیپٹل کی سہولت فراہم کرنے پر کام کر رہی ہے، اس مقصد کے لیے نیشنل کارپوریٹ گارنٹی کارپوریشن سمیت متعلقہ اداروں کو فعال بنایا جا رہا ہے تاکہ چھوٹے کاروباروں کو سرمایہ حاصل کرنے میں آسانی ہو۔انہوں نے کہا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے برآمد کنندگان کے لیے مزید سہولیات کی منظوری دی ہے، ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے  جبکہ ایکسپورٹ ری فنانس کی حد ایک ٹریلین روپے سے بڑھا کر ڈیڑھ ٹریلین روپے کر دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ برآمد کنندگان کے لیے رعایتی شرح پر طویل المدتی فنانسنگ بھی متعارف کرائی جا رہی ہے  جبکہ برآمدات میں اضافے پر اضافی مراعات بھی دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ  50 کروڑ روپے سے کم آمدن رکھنے والوں کے لیے سپر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے  جبکہ برآمد کنندگان پر بھی سپر ٹیکس کا خاتمہ کیا گیا ہے تاکہ برآمدی شعبے کو مزید تقویت مل سکے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران چینی کمپنیوں کے ساتھ تقریباً 600 مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر پیش رفت ہوئی جن میں سے تقریباً 30 فیصد عملی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں،متعدد منصوبوں میں زمین حاصل کر لی گئی ہے، تعمیراتی کام شروع ہو چکا ہے، قرضوں کی منظوری مل چکی ہے یا سرمایہ کاری آنا شروع ہو گئی ہے  جبکہ وزیراعظم خود ہر ماہ ان منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں منعقدہ پاک-چین فارماسیوٹیکل کانفرنس میں ڈیڑھ ارب ڈالر مالیت کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے  جبکہ کانفرنس میں پاکستان اور چین کی 300، 300 کمپنیوں سمیت تقریباً 600 نمائندوں نے شرکت کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اب پاکستان میں سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ متعارف کرانے کے لیے بھی عملی اقدامات کر رہی ہے ۔ معاون خصوصی نے کہا کہ پاکستان کی خوشحالی نجی شعبے کی ترقی سے وابستہ ہے اور یہی خوشحالی دہشت گردی، بے روزگاری اور غربت جیسے مسائل کا موثر حل ہے۔ہارون اختر خان نے کہا کہ 25 کروڑ آبادی والا ملک صنعتوں کے قیام کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا،نئی صنعتوں، سرمایہ کاری اور تجارت کے فروغ سے ہی معاشی استحکام حاصل ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم زرعی شعبے میں کولڈ چین نظام کی بہتری پر بھی خصوصی توجہ دے رہے ہیں کیونکہ کولڈ چین کی کمی کے باعث زرعی پیداوار کا تقریباً 15 سے 20 فیصد حصہ ضائع ہو جاتا ہے، حکومت اس حوالے سے  متعدد اصلاحاتی اقدامات پر عمل کر رہی  ہے۔ایک سوال پر معاون خصوصی نے  واضح کیا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ حکومت نے سرمایہ کاروں کے لیے ٹیکس مراعات فوری طور پر ختم کر دی ہیں، موجودہ مراعات اپنی طے شدہ مدت تک مکمل طور پر نافذ رہیں گی  تاہم ان کی مدت میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی۔ہارون اختر خان نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ سپیشل اکنامک زونز میں انکم ٹیکس سے استثنا ایک مقررہ مدت کے لیے دیا گیا تھا، اگر کوئی سرمایہ کار اس مدت کے اختتام سے پہلے صنعت قائم کرتا ہے تو وہ باقی ماندہ مدت تک اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکے گا  تاہم بعد میں قائم ہونے والی صنعتوں کو نئی مدت کے لیے یہی رعایت نہیں ملے گی۔انہوں نے کہا کہ سپیشل اکنامک زونز میں ایک مرتبہ درآمد کیے جانے والے کیپٹل گڈز پر کسٹمز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کی رعایت بھی اپنی مقررہ مدت تک برقرار رہے گی۔