ایف بی آر اصلاحات سے محصولات میں اضافہ، ٹیکس چوری کے خلاف سخت اقدامات کا فیصلہ

4

اسلام آباد، 29 جولائی (اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ایف بی آر اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں محصولات میں اضافے، ادارہ جاتی اصلاحات اور ٹیکس نظام کی بہتری کے لیے جاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مختلف شعبوں میں ٹیکس استعداد کے درست تخمینے کے لیے ایک جامع اور سائنسی طریقہ کار وضع کرکے پیش کیا جائے۔ انہوں نے پاور سیکٹر کے ساتھ تعاون کے ذریعے غیر رسمی معاشی سرگرمیوں اور ٹیکس چوری میں ملوث افراد اور کاروباروں کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف قانونی کارروائی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ چینی کے پیداواری شعبے اور ایف بی آر کے اعداد و شمار میں ہم آہنگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایف بی آر کا نصب کردہ ٹریکنگ نظام مؤثر اور بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ انہوں نے چیئرمین ایف بی آر اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ٹیکس نظام میں رہتے ہوئے قوانین کی پابندی اور ٹیکس ادائیگی کرنے والے افراد و کاروبار ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے برآمدی اور مقامی صنعتوں کو ٹیکس کے حوالے سے ممکنہ سہولتیں فراہم کی ہیں اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ چیئرمین ایف بی آر اور سینئر افسران ہر ماہ کے پہلے ہفتے کراچی میں موجود ہوں تاکہ کاروباری برادری کے مسائل بروقت سنے اور حل کیے جا سکیں۔

انہوں نے ٹیکسٹائل، مشروبات، اسٹیل، پولٹری، خوردنی تیل و گھی اور ٹائرز کے شعبوں میں پیداوار کی ڈیجیٹل نگرانی کا نظام دسمبر تک فعال بنانے کی ہدایت بھی کی۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ ایف بی آر میں تقرریاں اور تبادلے صرف میرٹ کی بنیاد پر کیے جائیں گے جبکہ افسران کی جانچ کے نئے نظام کو سراہتے ہوئے میرٹ اور شفافیت کو اولین ترجیح قرار دیا۔

وزیراعظم نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افسران کی فہرست مرتب کرنے کی ہدایت کی تاکہ یوم آزادی کے موقع پر انہیں اعزازات سے نوازا جا سکے۔ انہوں نے کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی اور تدارک کے لیے فوری طور پر تھرڈ پارٹی آڈٹ اور توثیق کرانے کی بھی ہدایت کی۔

اجلاس کو ایف بی آر کی جانب سے پیداواری شعبوں میں ٹریکنگ نظام کی تنصیب، افرادی قوت سے متعلق اصلاحات اور ادارے کی عملی استعداد بڑھانے کے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ چینی، سیمنٹ، تمباکو، ٹائلز اور کھاد کے شعبوں میں ٹریکنگ سسٹم مکمل طور پر فعال ہے جبکہ مزید پانچ شعبوں میں اس کا نفاذ آخری مراحل میں ہے جن کی مجموعی ٹیکس استعداد سات سو ارب روپے سے زائد ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ مزید نو پیداواری شعبوں میں ٹریکنگ نظام کے نفاذ کے لیے کام جاری ہے جس سے 560 ارب روپے کی اضافی ٹیکس استعداد سے فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پیداواری شعبے میں بالواسطہ ٹیکس وصولی کے لیے ٹریکنگ نظام کا نفاذ رواں سال کے اختتام تک یقینی بنایا جائے۔

افرادی قوت سے متعلق اصلاحات پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ نئے افسران کی تربیت ملک کی ممتاز جامعات کے تعاون سے کرائی جا رہی ہے جبکہ موجودہ افسران کی پیشہ ورانہ تربیت بھی جاری ہے۔ تربیتی ماڈیولز کو بین الاقوامی معیار اور پاکستان کے ٹیکس نظام کی ضروریات کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پیئر ریویو اور جانچ کے نظام کے بعد کسٹمز اور ان لینڈ ریونیو کی اہم ذمہ داریوں پر اچھی شہرت کے حامل افسران کی تعیناتی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ بہتر کارکردگی دکھانے والے افسران و اہلکاروں کی حوصلہ افزائی اور ناقص کارکردگی پر مؤثر احتساب کا نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

مزید بتایا گیا کہ شفافیت کے فروغ کے لیے 957 تھرڈ پارٹی آڈیٹرز تعینات کیے جا چکے ہیں جبکہ کسٹمز کے فیس لیس نظام کے تحت 280 گڈز ایویلیوایٹرز کی بھرتی کا عمل جاری ہے۔ اس نظام کے ذریعے سامان کی ترسیل کے وقت میں کمی اور محصولات کی وصولی میں اضافہ ہوا ہے۔

اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ ٹیکس مقدمات میں غیر ضروری قانونی چارہ جوئی کم کرنے کے لیے کیس اسکرونٹی کمیٹی قائم کی جا رہی ہے جو مقدمات کے اندراج کا فیصلہ میرٹ پر کرے گی۔ متبادل تنازعاتی حل فورم کے تحت جون 2026 تک موصول ہونے والی 377 درخواستوں میں سے 152 درخواستیں 90 روز کے اندر نمٹا دی گئیں جس کے نتیجے میں 54 ارب روپے کی ٹیکس وصولی ممکن ہوئی۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، علی پرویز ملک، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔