پاکستانی بندرگاہیں وسطی ایشیا کیلئے ٹرانزٹ ہب بن سکتی ہیں، جنید انوار چوہدری

11

اسلام آباد، 29 جولائی (اے پی پی ): قازقستان کے سفیر یرزھان کستافین اور وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے دوطرفہ تجارت کے فروغ، شپنگ، تجارتی سہولت کاری اور علاقائی روابط بہتر بنانے سمیت بحری تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔

 قازق سفیر کی وزیر بحری امور سے الوداعی ملاقات کے دوران محمد جنید انوار چوہدری نے پاکستان اور قازقستان کے تعلقات مضبوط بنانے میں سفیر یرزھان کستافین کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بحری شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان قازقستان کے ساتھ بندرگاہوں، شپنگ، تجارت میں سہولت کاری اور علاقائی روابط کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے، جبکہ مضبوط بحری روابط دونوں ممالک کے کاروباری حلقوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرسکتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کے ذریعے قازق کارگو کے لیے بندرگاہی سہولیات اور معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، جبکہ فری زونز میں مشترکہ منصوبوں کے امکانات بھی تلاش کیے جاسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی بندرگاہیں قازقستان اور وسطی ایشیا کے دیگر ممالک کے لیے ٹرانزٹ ہب کا کردار ادا کرتے ہوئے خلیجی ممالک، افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا کی منڈیوں تک رسائی فراہم کرسکتی ہیں۔

قازق سفیر نے دوطرفہ تجارت بڑھانے کے وسیع امکانات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بحری اور بندرگاہی شعبوں میں قریبی تعاون سے تجارت کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔

ملاقات میں ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے اور پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے قازق تجارت کو آسان بنانے کے لیے عملی اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔