کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال بہتر کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں،صوبائی وزرا ء پریس کانفرنس

4

کوئٹہ، 29 جولائی (اے پی پی):صوبائی وزیرمنصوبہ بندی وترقیات میرظہوراحمد بلیدی نے کہا ہے کہ کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال بہتر کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں،بلوچستان میں اے اور بی ایریا کی کنفیوژن کو ختم کردیا گیا ہے،بلوچستان میں دہشتگردی کے نیٹ ورک کو توڑاجائےگا،کوئٹہ سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت شہر میں لگے کیمروں کو ہڑتالوں میں نقصان پہنچایاگیاہے،بلوچستان کی تمام قومی شاہراہوں کو محفوظ بنایا جائے گا ۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نےصوبائی وزراء میر ضیاء اللہ لانگو،میر شعیب نوشیروانی اور مشیر کھیل مینہ مجید کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیرمنصوبہ بندی وترقیات میرظہوراحمد بلیدی نے کہاکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی زیر صدارت صوبائی کا بینہ کا اجلاس ہوا،اجلاس میں 26 ایجنڈے زیر غورآئے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات کے شہداء کے لئے دعا کی گئی اور شہداء کوصوبائی کابینہ نے خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں  نے کہا کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ کے ذریعے اسکالرشپ منظور کی گئی جبکہ تعمیر نو کالج کو صوبائی کابینہ نے جامعہ کا درجہ دےدیاہے۔ میرظہوراحمد بلیدی نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے پلاننگ منول کا اعلان کیا ہے،ہرنائی سبی روڈ کے 15 ارب روپے وفاقی حکومت جبکہ باقی دیگرصوبائی حکومت برداشت کرئےگی۔ انھوں نے کہاکہ بلوچستان کیڈیٹ کالج بورڈ میں ردوبدل کیا گیا ہے،بلوچستان میں 11 کیڈیٹ کالج موجود ہیں۔ میرظہوراحمد بلیدی نےکہا کہ صوبائی کابینہ نے چائلڈ پروٹیکشن رول بنایا ہے،بلوچستان میں نئی تحصیل بنانے کی منظوری  بھی دی گئی ہے۔ اس موقع پر وزیر داخلہ بلوچستان میرضیاءاللہ لانگو نے کہا کہ شہداء زیارت کے لواحقین کے ساتھ لیویز کی بحالی کے حوالے کوئی مطالبہ نہیں تھا جبکہ ڈاکٹر مالک بلوچ نے وزیر اعلیٰ بننے کی خواہش ظاہر نہیں کی۔ میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کے حالات اور واقعات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔  بلوچستان میں حالات کو معمول پر لانے کے لئے غیر معمولی اقدامات کرنے ہوں گے۔