بلوچستان کے ترقیاتی منصوبہ بندی ،نگرانی اور عملدرآمد کے نظام میں تاریخی اصلاحات سے ترقیاتی فنڈزکے استعمال کو114فیصد تک پہنچادیا؛میرظہوربلیدی

7

کوئٹہ، 04 اگست (اے پی پی):صوبائی وزیر ترقیات و منصوبہ بندی میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبہ بندی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام میں گزشتہ دو برس کے دوران تاریخی اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، جن کے نتیجے میں نہ صرف ترقیاتی منصوبوں کی شفافیت، رفتار اور معیار میں نمایاں بہتری آئی بلکہ صوبہ پہلی مرتبہ 114 فیصد ترقیاتی فنڈز کے استعمال کی سطح تک پہنچا، جو بلوچستان کی بڑھتی ہوئی استعدادِ کار کا واضح ثبوت ہے۔

 ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی کارکردگی سے متعلق منعقدہ پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات و منصوبہ بندی زاہد سلیم بھی موجود تھے۔

صوبائی وزیر میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نے اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ سالانہ پیش رفت رپورٹ جاری کی ہے، جس میں گزشتہ ڈھائی سال کے ترقیاتی پروگرام، حاصل ہونے والی کامیابیوں، ادارہ جاتی اصلاحات، پالیسی اقدامات اور ریگولیٹری ریفارمز کو جامع انداز میں مرتب کیا گیا ہے تاکہ عوام اور متعلقہ اداروں کو صوبے کی ترقیاتی کارکردگی سے آگاہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران محکمہ نے پی ایس ڈی پی کو مکمل طور پر آٹومیٹ کیا ہے۔ اب ترقیاتی منصوبوں کی آن لائن سبمیشن، خودکار منظوری کے مراحل،  ڈیٹا انٹیگریشن اور دیگر تمام متعلقہ امور ڈیجیٹل نظام کے تحت انجام دئیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک خصوصی موبائل ایپ بھی تیار کی گئی ہے جس کے ذریعے پی اینڈ ڈی کے افسران اور متعلقہ حکام کسی بھی ترقیاتی منصوبے کی سائٹ پر جا کر اس منصوبے کی مکمل معلومات فوری طور پر حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تقریبا ًتمام ترقیاتی منصوبوں کی یونین کونسل کی سطح تک جیو ٹیگنگ بھی مکمل کی جا چکی ہے، جس سے منصوبوں کی نگرانی مزید موثر ہوئی ہے۔

میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ بیورو آف اسٹیٹسٹکس کو بھی جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے۔ ماضی میں اکثر ترقیاتی منصوبوں کی فیزیبلٹی کمزور ہونے کی وجہ سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو پاتے تھے، تاہم اب ماہرین کی خدمات حاصل کرکے ڈیٹا اینالیسز کے نظام کو مضبوط بنایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلی مرتبہ صوبائی شماریاتی ڈیجیٹل ڈیش بورڈ  لانچ کیا گیا ہے جبکہ 2010 سے 2023 تک کے سماجی و اقتصادی اشاریوں پر مبنی رپورٹ بھی شائع کی گئی ہے، جس میں گزشتہ 13 برس کے دوران بلوچستان کی ترقی، اس کے رجحانات اور عوام تک پہنچنے والے فوائد کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کا مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن ونگ طویل عرصے سے غیر فعال تھا، جسے دوبارہ فعال بنایا گیا ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران مانیٹرنگ ٹیموں نے 2022 ترقیاتی منصوبوں کے دورے کیے، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً 378 فیصد اضافہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے یہ یقینی بنایا جا رہا ہے کہ ترقیاتی منصوبے صرف کاغذوں تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کی بروقت تکمیل، فنڈز کے درست استعمال اور عوام تک حقیقی فوائد کی فراہمی کا بھی مسلسل جائزہ لیا جائے۔

 صوبائی وزیر نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال میں صوبائی پی ایس ڈی پی کے تحت مجموعی طور پر 6 ہزار 728 ترقیاتی اسکیمیں شامل تھیں، جن میں 3 ہزار 758 جاری منصوبے جبکہ 2 ہزار 970 نئی اسکیمیں تھیں۔ ان منصوبوں کے لیے 249 ارب روپے کا ترقیاتی حجم مختص کیا گیا تھا، تاہم مثر منصوبہ بندی اور انتظامی اصلاحات کے باعث 283 ارب روپے خرچ کیے گئے، جو 114 فیصد فنڈز کے استعمال کے برابر ہے ۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں وفاقی بیوروکریسی اور دیگر حلقوں کا تاثر تھا کہ بلوچستان اپنی ترقیاتی فنڈز کی استعدادِ کار کو 50 سے 70 فیصد سے آگے نہیں لے جا سکتا، لیکن موجودہ حکومت کی اصلاحات نے اس تاثر کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقیاتی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور حکومت اس استعداد کو مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی ۔